97

وزیراعظم عمران خان کا گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان

گلگت (   آوازچترال) وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کردیا ۔ گلگت بلتستان کے قومی دن کے موقع پرآزادی پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ الگ صوبہ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ تھا، عوامی مطالبے کے پیش نظر گلگت کو الگ صوبہ بنائیں گے، الیکشن کی وجہ سے ابھی گلگت پیکج پر بات نہیں کرسکتا، جلد گلگت کے عوام کو خوشخبری ملے گی اس موقع پر وزیراعظم نے گلگت کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وزیراعظم رہوں گا یکم نومبر گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزارا کروں گا۔ میں پہلی مرتبہ 15 برس کی عمر میں گلگت بلتستان آیا تھا اس وقت قراقرم ہائی وے بن رہی تھی۔ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی دوسرے صوبوں کی طرح مکمل آزادی ہوگی۔ ہمارا مقصد ملک سے مہنگائی کو ختم کرنا ہے ۔تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ نریندر مودی کا مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے،بھارت نے پلان کیا ہوا تھا کہ پاکستان میں شیعہ سنی فسادات پھیلائے جائیں اور بڑے مذہبی لیڈروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا ۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں اپنی ایجنسیز کا جنہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے اس انتشار کو پھیلنے سے روکا۔میں پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ فوج کسی بھی ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے، ایک مضبوط فوج ایک مضبوط ملک کی علامت ہے، اسلامی ممالک کا حال آپ کے سامنے ہے، ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہونا چاہیے، ہمارے کچھ سیاستدان ہماری فوج کیخلاف بیان بازی کررہے ہیں، یہ لوگ 35 برس ملک لوٹتے رہے ہیں، اب ان سے حساب مانگا جا رہا ہے تو یہ ہمارے خلاف اور فوج کیخلاف باتیں کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔ حکومت جب ان سے بلیک میل نہیں ہوئی تو انہوں نے پاک فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے چیف کیخلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا۔ عمران خان نے کہا کہ میں اللہ کا لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو منتخب کیا اور یہ میری سیلیکشن بالکل درست ہے کیونکہ اگر یہ ڈاکو ان کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ درست لوگ ہیں ۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیالیکن نقصان ہمیشہ ان کو میر جعفر اور میر صادق نے پہنچایا ہے اور آج ہمیں بھی ان میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادق کا سامنا ہے۔ یہ ملک کو بدنام کر رہے ہیں ، ابھی نندن کی رہائی کے فیصلے پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت نے مبارک باد دی اور پاکستان کی بہادری کو سراہا گیا جبکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈر کر یہ کام کیا، ان لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے این آر او، جو میں نے انہیں کسی صورت نہیں دینا ہے۔ ان طاقتور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لاؤں گا ۔یہ دیکھیں گے کہ اب کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کو پسینہ آتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کا جب دل کرتا ہے قومی اداروں پر تنقید شروع کر دیتے ہیں، اب یہ ایک جج کو اوپر لانا چاہ رہے ہیں، جب حدیبیہ پیپر مل کیس میں ان کے حق میں فیصلہ آ جائے تو عدلیہ اچھی ہوتی ہے، لیکن ان کے ناجائز اثاثوں کیخلاف فیصلہ آ جائے تو عدلیہ بری ہو جاتی ہے ، یہ لوگ پاکستان کا یا پاکستان کے عوام کا نہیں اپنا فائدہ سوچتے ہیں، اور اس فائدے کے لیے یہ ملک کے خلاف بھی جا سکتے ہیں ۔

Facebook Comments