139

سابق  ایس پی  انوسٹی گیشن قاضی عطا الرحمان…….مولانا محمد الیاس جیلانی

یہ دنیا ایک سراٸے ہے جہاں لوگ أتے اور چلے جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی لوگ مدتوں انہیں یاد رکھتے ہیں انہی میں سے ایک اہم نام سابق  ایس پی  انوسٹی گیشن قاضی عطا الرحمان أف بروز کا بھی ہے جو گذشتہ ماہ اگست کے پہلے عشرے میں اس دنیاۓ رنگ و بو سے عالم بقا کیطرف کوچ کرگٸے۔قاضی مرحوم مولانا قاضی عین القضاة کے فرزند ارجمند تھے جو دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ اور 1935 کے ممتاز فضلاۓ کرام میں سے تھے۔فراغت کے بعد ریاستی دور میں شرعی کونسل کے کٸی بار رکن اور ساتھ ہی دارالعلوم چترال میں تدریسی شعبے سے منسلک تھے ۔یوں قاضی عطا الرحمان خاندانی اور پیشے کے ساتھ انصاف کے لحاظ سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ایف اے کرنے کے بعد 1969 کو محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی حیثیت سے ملازمت کے أغاز سے لیکر SP انوسٹی گیشن کےمنصب پر براجمان ہونے تک محکمہ پولیس کے سپاہی سے لیکر مجاز افیسر تک سب اپکی دیانتداری اور فرض شناسی و خودداری کے گن گاتے تھے اور مختلف شعبہاٸے ذندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی انکی سادگی اور دیانتداری کے معترف تھے ۔اپ بدوران ملازمت جراٸم پیشہ افراد کیلٸے خوف کی علامت اور محکمہ پولیس کے ماتھے کا جھومر تھے۔ سروس کے دوران تھانہ شرقی پشاور سوات مینگورہ دیر خال اور چترال کے مختلف علاقوں میں ایک ذمہ دار افیسر کے طور پر خدمات کی انجام دہی بعد ازاں انسپکٹر اینٹی کرپشن DSP انوسٹی گیشن اور SP انوسٹی گیشن جیسے اہم عہدوں پر تعیناتی کے باجود محکمہ پولیس یا عوامی حلقوں میں کسی بھی طور مورد الزام نہ ٹہرنا انکی شرافت و دیانت کی واضح دلیل ہے۔یقینا قاضی مرحوم شرافت و دیانت اور عجز و انکساری کا پیکر تھے۔اپنے عہدے کی أڑ لیکر کھبی بھی ناجاٸز فاٸدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کھبی ایک پولیس افیسر کے روپ میں کسی پر رعب جھاڑتے ہوۓ دیکھا گیا ۔بحیثیت پولیس افیسر انتہاٸی سادہ طرز ذندگی اپناۓ رکھا اور مرتے دم تک اسے نبھاۓ رکھا۔اپ کے سادہ طرز تعمیر کا رہاٸشی مکان دیکھ کر ہرگز نہیں لگتا یے کہ یہ ایک سابق Sp انوسٹی گیشن کا گھر ہے۔سادگی و دوویشی کیساتھ ساتھ تحمل مزاجی اور بردباری اپکے خون میں شامل تھی۔عین حالت شباب میں اپنے لخت جگر اشفاق الرحمان کی جداٸی پر بھی صبرو تحمل کاکوہ گراں بنکر دیکھاۓ۔فقیرانہ أۓ تھے صدا کر چلے کے مصداق اپنے بیوی بچوں کیلٸے کوٸی وسیع جاٸداد چھوڑ کر نہیں گٸے اگر وہ چاہتے تو انکے بینک بیلینس اور جاٸداد میں خاطر خواہ سے بھی بڑھکر باسانی اضافہ کرسکتے تھے۔بحرحال قاضی مرحوم ایک باوقار سنجیدہ ذی وجاھت اور انتہاٸی وضعدار پولیس افیسر تھے۔کارسرکار کی بجا أوری کے علاوہ کتب بینی اپ کا محبوب مشغلہ تھا جو پنشن کے بعد بھی اعصاب ساتھ دینے تک برقرار رکھا۔ مختلف تقریبات میں ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی موقع ملتے ہی کسی نہ کسی فقہی مسلے کو موضوع بحث ضرور لایا کرتے تھے اور اسپر مختلف کتب کے حوالوں کیساتھ مفید تبصرہ بھی کرتے تھے۔اپ رطب و یابس پر مشتمل بحث کے قاٸل نہیں تھے بلکہ جاندار پر مغز اور حوالہ جات کیساتھ ڈاٸیلاگ پسند کرتے تھے۔اپ علما و طلبا کے انتہاٸی قدردان تھے۔سرکاری گاڑی میں کھبی بھی کسی عالم یا طالبعلم کو پیچھے نہیں بٹھلاتے تھے بلکہ اگلی سیٹ میں اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے۔الغرض قاضی مرحوم مرنج مرنجان طبیعت کے مالک اور فخروغرور سے کوسوں دور ایک درویش انسان تھے۔قاضی مرحوم کے پہلی بیوی سے چار بیٹے اشفاق الرحمان مرحوم اسد الرحمان فہیم الرحمان گوہر الرحمان اور ایک بیٹی ہے اور مفتی عبد الحکیم اف بروز کے دختر نیک اختر سے ایک بیٹا شجاع الرحمان جو ایم فل اسکالر بھی ہیں اور ایک بیٹی ہے ۔ یوں قاضی مرحوم نے چا بیٹے دو بیٹیاں اور بیوی دختر مفتی عبد الحکیم و ہمشیرہ اخونزادہ مرزا فضل واحد بیگ سوگوار چھوڑے ہیں۔خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

Facebook Comments