75

خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس،ایوان میں وزیر صحت استعفی دو کے نعرے

پشاور (  آواز چترال  نیوز)پ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کے زیر صدارت ہوا، نگہت اورکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ صحت کا انصاف کے دعوی کرنے والوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،انھوں نے اج مرنے والوں کو پیسے دیے ۔قاتل ہمیشہ مرنے والوں کو دیت دیتے ہیں ہم تو سوچ رہے تھے کی اج وزیر صحت استعفی دیں گے. رکن اسمبلی سردار یوسف نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ اج حکومت مکمل ناکام۔ہوگئی ہے، اج منسٹر صاحب خود استعفی دیں. رکن اسمبلی میاں نثار کاکا خیل نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ وزیر صحت زمہ داریاں نہیں نبھا سکتے تو کسی اہل شخص کو زمہ داری دی جاے، ہمارے دور دراز اضلاع کے لوگ پشاور بہتر علاج کے لیے اتے ہیں لیکن اب یہاں بھی لوگ مرنے لگ گیے ہیں ۔ رکن اسمبلی احمد کنڈی نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں سات قتل ہوے ہیں۔ ہم قاتل کا نام چاہیے کہ کس نے قتل کیے ۔انکوائری رپورٹ پر ہمیں یقین نہیں ہے. رکن اسمبلی سرادر بابک نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ اسے واقعات کی زمہ دار گورننس ہوتی ہے،ڈی چوک میں عمران خان کہتے تھے کہ صحت کے نظام کو بدلیں گے، تعلیم نظام کو بدلیں گے، پی ٹی ائی کے اٹھ سالہ حکومت میں انھوں نے کیا کیا ۔ 96 ممبران میں کوئی نہیں کہ یہ وزارت کسی اور کو دے سکیں، وزیر اعلی بتائیں ان کے پاس کتنے محکمے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتائیں انکے پاس محکمے تو ہیں بتائیں کتنے بارایوان میں اے ہیں ۔اتنا بڑا سانحہ ہوا ۔۔لیکن وزیر اعلی کے پاس وقت نہیں کےبہسپتال جاسکیں ۔ صوبے کے سینئر ڈاکٹرز چھوڑ کرجارہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں سے عوام کا عتماد اٹھ چکا ہے ۔۔سسٹم میں خرابیاں اور کمزوریاں ہوتی ہی،صحت کے شعبے میں بڑے ہسپتال کا یہ حال ہے رو باقی ضلعوں کو چھوڑیں، یہ کس سوچ سے حکومت چلا رہے ہیں سمجھ سے بالاتر ہے، تمام ہسپتال امریکہ سے چلاے جارہے ہیں ،صحت کے وزیر کو صوبے کے عوام کے لیے اب استعفی دے دینا چاہیے.

Facebook Comments