43

دھڑکنوں کی زبان…..۔۔۔۔۔ریاست کے اصل اثاثے۔۔۔۔……..۔۔۔محمد جاویدحیات

ریاست صرف خطہ زمین کو نہیں کہتے۔وہاں پہ بسنے والوں کو کہتے ہیں۔مکان کی خوبصورتی مکینوں سے ہوتی ہے۔ریاست ایک تصور ایک خیال ایک حقیقت کا نام ہے۔ریاست کی طاقت کامیابی اور مضبوطی کو ماپنے کے لیے اس کے باشندوں کے معیار زندگی خوشحالی اور اطمنان کو ناپا جاتا ہے۔ریاست تب خوشحال کہلاتی ہے جب یہاں کے باشندے اس کے فیوض و برکات سے مستفیض رہیں۔۔۔لازم ہے اس کے باشندوں میں ہر ایک کی زندگی کا اپنا معیار ہوتا ہے۔ایک مستری ترکھان موچی کے معیار زندگی کو ایک اعلی أفیسر اور ہنرور کی زندگی سے ناپا نہیں جاسکتا۔یہ ان کی صلاحیتوں میں فرق کا مسئلہ ہے۔لیکن کامیاب ریاست کی مثال یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے مقام پہ مطمین رہے۔ریاست کے حکمران کے نزدیک ہر کسی کی اپنی اہمیت ہو۔حکمران کو یقین ہو کہ ریاست کے اصل معمار وہی ترکھان مستری ڈرائیور موچی زمیندار سپاہی استاد وغیرہ ہیں جن کی محنت اور دم قدم سے ریاست زندہ رہتی ہے۔ایک پولیس مین قانون کی پاسداری نہ کرے تو ریاست لاقانونیت کا شکار ہوتی ہے۔ایک استاد نونہالوں کی تربیت نہ کرے تو قوم ان پڑھ بن جاتی ہے۔ایک محافظ اگر سرحدوں کی حفاظت نہ کرے تو دشمن کو ریاست توڑنے کا موقع ملتا ہے۔لہذا جتنی وفا محبت اور غیرت ایک جنرل کی ریاست کے ساتھ ہوتی ہے۔اتنی ہی محبت ایک سپاہی کو ہونی چاہیے۔تب جا کے ریاست ناقابل تسخیر ہوتی ہے کیونکہ سرفروشوں کے گڑھ کو تسخیر کرنا اسان نہیں ہوتا۔کامیاب ریاستوں کی دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں اسلامی ریاست کی مثال سب سے اعلی و ارفع ہے کہ اس کا ہر فرد جانثار ہونے کے ساتھ ساتھ فرض شناس صادق اور امین ہوتا ہے۔ ہماری ریاست کی کامیابی اور ناقابل تسخیر ہونے کااصل بھی یہی ہے کہ اس کا ہر فرداس کا جانثار ہو۔اس کا جینا مرنا ریاست کے لئے ہو۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سب اپنے حقوق کی دھائی دے رہے ہیں سب اپنے أپ کو محروم ازلی کہتے ہیں۔سب کو اپنی پڑی ہے۔کسی کو کسی کی پرواہ نہیں۔سیاست دانوں حکمرانوں اورصاحبان اقتدار کی طرف سے سبز باغ ہیں۔سہانے خواب ہیں۔وعدے وعید ہیں لیکن جو محروم ہیں وہ محروم ازلی ہیں۔حکمرانوں کی محنت قیادت اور سہولیات کی کرنیں ان محروموں تک نہیں پہنچتیں۔بے شک ان کے اردگرد چمکتی گاڑیاں ہیں پرتعیش محلات ہیں پکی سڑکیں کارخانے ہیں جاگیریں ہیں مگر ان سڑکوں کے کنارے بیٹھے پالیشی موچی چھاپڑی لگانے والے ان گاڑیوں کو تکتے رہتے ہیں لیکن کسی کو نظر نہیں أتے۔مگر بدقسمتی یہ ہے ان چمکتی گاڑیوں والوں کو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کی زندگیوں میں یہ جو چمک دمک ہے اس کے اصل زمہ دار سزاوار اور کردار کون ہیں۔یہ دودھ سبزیاں گوشت غلہ کہاں سے آتا ہے۔یہ ان کے ناشتے میں انڈا حلوہ روٹیاں کس نے بنائی ہیں۔ان کے باورچی خانوں میں موجود یہ پتیلیاں کس نے بنائی ہے یہ گیس سلنڈر میں گیس کس نے بھرا ہے۔یہ پکی سڑکیں بنانے والے کون ہیں یہ بجلی گھر تعمیر کرنے میں کس کا خون پسینہ ایک ہوا ہے۔یہ انواع و اقسام کے میوے کس نے لگائے۔یہ ریاست کے اصل فخر اور معمار کون ہیں۔اگر حکمرانوں کو ریاست کے ان اصل معماروں کے بارے میں احساس زندہ ہو تب ریاست فلاحی کہلاتی ہے۔قائم و دایم رہتی ہے اور ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔ہمارے ہاں جن ستونوں پر ریاست کھڑی ہے ان کے پاس نہ حوصلہ افزا مستقبل ہے نہ سجانے کو خواب ہیں۔۔ ان کے لئے پہلی بار بھٹو سینئر کے دوران آواز اٹھی کہ زرعی اصلاحات آئینگی۔آواز صدابہ صحرا ہوئی۔پھر مطلق العنانیت کے دور میں اتنا ہوا کہ قیمتیں کنٹرول میں رہیں ان کا جینا دوبھر نہیں ہوا۔پھر آواز مالکانہ حقوق کی اٹھی۔۔صدا بہ صحرا ہوئی۔پھر پچاس ہزار گھروں کی اٹھی صرف بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ان سادا لوحوں کو یہ پتہ نہیں کہ یہ خوشخبری نہیں سیاسی نعرے ہیں۔آئے دن ان کی مایوسیاں بڑھتی ہیں سہانا خواب کوئی نہیں خوشخبری کوئی نہیں۔کوئی اطمنان کی خبر نہیں آتی۔وہی قرضوں کی دھائی وہی معیشت کی تباہی وہی چوری ڈکیتی کی خبریں۔۔احساس پروگرام کے تحت لڑکانہ کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے فرمایا۔کہ ہم کیسے لاک ڈاون کریں کہ یہاں پر لوگ چھاپڑی لگائے ہوئے ہیں یہ ایک مخلص وزیر اعظم کی بات ہے کہ وہ چھاپڑی فروش اس ریاست کا باشندہ ہے اگر لاک ڈاون ہوا تو وہ اپنے بال بچوں کو کیسے پالے گا۔۔کاش ہم احساس پروگرام کے پیسوں کی تقسیم میں ہیرا پھیری نہ کریں۔یہ قوم غیرت والی نہیں ہے یہ ایثار و قربانی والی نہیں ہے اس وجہ سے ان امدادوں کی مد میں بہت سارے گھپلے ہوتے ہیں۔جب بھی پیکچ اور امداد کا موقع أتا ہے بڑوں کی پانچوں گھی میں ہوتے ہیں۔ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اٹھ لاکھ غیر مستحقین کی لسٹ آئی۔ان کو قرار واقع سزا دینا ریاست کی زمہ داری ہے۔یہ مستحقین اور چھوٹے موٹے ملازم ریاست کے اصل سرمایے ہیں ان کو ہراسان کرنا ریاست کے حق میں نہیں یہ کبھی غیر یقینی صورت حال کا شکار نہ ہوں۔۔ریاست کی مثال ایک ماں کی ہے اس کی زیادہ توجہ اپنے ان مستحق بچوں پر ہونی چاہیے جو زیادہ محبت اور توجہ کے حقدار ہیں۔

Facebook Comments