87

آغا خان ہیلتھ سروس،۔مستوج میں کروناوائرس کے مریضوں کے لئے 20بستروں پرمشتمل ایمرجنسی رسپانس سینٹر فار کووِڈ19- کے افتتاحی تقریب

چترال(نمائندہ آوازچترال) آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی جانب سے اپرچترال تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال مستوج میں کروناوائرس کے مریضوں کے لئے 20بستروں پرمشتمل ایمرجنسی رسپانس سینٹر فار کووِڈ19- کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایچ اوچترال ڈاکٹرشہزادہ حیدرالملک اورایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مستوج معظم خان نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان چترال سمیت ملک کے طول عرض میں کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے کی تیاری اور بیماری کے جوابی اقدامات میں مصروفِ عمل ہے۔ ماضی میں بھی عوامی خدمت میں پیش پیش رہی ہے لیکن کرونا وائرس کے پھیلاوکے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور ملک بھر میں لاکھوں افراد کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے ان کے اسٹاف حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا فریضہ انجام دینے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں جوخراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سہولت کاخیرمقدم کرتے ہیں جووقت کی ضرورت بھی ہے۔اگرکوئی شخص کرونامیں مبتلاہوجائے تویہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئے اپنے علاج کرائے اس طرح مریض کوجہاں بروقت علاج فراہم ہوسکے گاوہیں اس بیماری کودوسر ے لوگوں میں پھیلنے سے بھی روکاجاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام حکومتی ایس او پی اوراحتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کریں کیونکہ آنے والے دنوں میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے جس سے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہیں۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے کرونا سے بچاو کے لئے تمام طبی سہولیات اور سامان کی فراہمی یقینی اورٹیسٹ کرنے کی استعداد کوبڑھانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔
اس موقع پرآغاخان ہیلتھ سروس خیبرپختونخوا اورپنجاپ ریجن کے ریجنل ہیڈمعراج الدین نے کہاکہ چترال میں قائم کیاجانے والایہ تیسراایمرجنسی رسپانس سینٹرہے اس سے قبل بونی اورگرم چشمہ میں بھی ایمرجنسی رسپانس سینٹر قائم کیے جاچکے ہیں اورعنقریب چترال میں ٹیسٹنگ سروس بھی شروع کیجائیگی۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی بلا تفریق خدمت کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور بلا امتیاز عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس ایمرجنسی رسپانس سینٹرکاعملہ 23افرادپرمشتمل ہوگاجن میں 6ڈاکٹرز،6نرسیس،2نرسنگ اسسٹنٹس اوردیگرہیلتھ پروفیشنلز ہوں گے۔یہ سینٹرمعمولی سے درمیانہ درجے کی علامات کھنے والے کروناوائرس کے مریضوں کودیکھ بھال کی سہولتیں فراہم کریگا۔اس سہولت پردستیاب 20بستروں میں سے 10بسترخواتین کے لئے مخصوص ہوں گے۔یہاں کام کرنے والے عملے کے تمام افراد کو ادویات اور پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ (PPE) سمیت تمام لازمی آلات اوراشیائے ضرورت فراہم کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ بیماری سے بچنے کے لئے صرف ماسک کا استعمال ہرگز کافی نہیں۔ اس کے لئے بار بار ہاتھ دھونا، چھینک اور کھانسی کے دوران منہ اور ناک کو ڈھانپنا اور ایسے لوگوں سے دْور رہنا بھی ضروری ہے جن میں نزلہ زکام کی علامات مثال کے طور پر کھانسی، چھینکیں اور بخار کی صورت میں ظاہر ہوچکی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کی خاطر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، مشکل وقت سے بچنے کے لئے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار اد اکرنا چاہیے۔
سابق چیئرمین تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال مستوج شہزادہ سکندرالملک نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی چترال میں حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔ یہاں کے عوام کی پسماندگی اوردورافتادگی کومددنظررکھتے ہوئے آرایچ سی مستوج میں صحت کے حوالے تمام جدیدسہولیات فراہم کئے گئے ہیں اورتحصیل مستوج کے عوام بھی ان کے سروس سے مطمئن ہیں۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی کرونا وائرس کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے عمل میں سرگرم ہے جوقابل تعریف ہے۔ اس موقع پرپریذیڈنٹ نامدارریجنل کونسل اپرچترال امتیازعالم،انچارچ آرایچ سی مستوج ڈاکٹرشاہ نادر،ڈاکٹررفعت جان،ڈاکٹرسردارنواز اوردیگرنے خطاب کیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اپرچترال یوٹی شگفتہ سرور،ایس ایچ او مستوج سیدعبدالکریم شاہ،سیدبلبل علی شاہ،ظفراحمدلال،سیدمولائی الدین شاہ،منیجربیسک ہیلتھ سینٹرزنصرت جہاں،ایڈیشنل ڈی ایچ اواپرچترال ڈاکٹرفرمان ،نورالہدا، سیدحسین علی شاہ،اکبرشاہ،علاء الدین،گل حسین،نگارعلی،پریذیڈنٹ لوکل کونسل بانگ،بریپ،مستوج،لاسپور،اورعمائدین علاقہ کثیرتعداد میں موجودتھے۔آخرمیں آغاخان ہیلتھ سروس کے فوکل پرسن انوربیگ نے مہمانوں کاشکریہ اداکیا

Facebook Comments