140

لواری ٹنل کی تکمیل اور تقاضے

چترال کی جغرافیائی حیثیت سے بھر پور استفادہ کرنے کا بہترین موقع لواری ٹنل کی تعمیر سے عین ممکن ہو گیا ہے۔ اور موجودہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں لواری ٹنل سے DooraPassشاہ سدیم گبور اور تحصیل تور کہو اور تحصیل مستوج کے شاہراہوں پر کام کا آغاز کثیر رقوم مختص کرکے کر دیا ہے۔ ان سڑکوں کو افغانستان کے سر حدات واخان، زیباک اور شاہ قدیم کے اخری سرحدات بدخشان توپ خانے تک لے جایا گا۔
ابھی لواری ٹنل کی تعمیر آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور صوبائی حکومت چترال کو خصوصی توجہ دیکر چترال ڈرائی پورٹ کے قیام پر کام کا آغاز کر کے چترال کو افغانستان، سنٹر ایشیا اور دوست ملک چائنا کے لئے تجارتی منڈی کے طور پر قائم کرکے چترال کو چائنیز تجارت کے لئے تمام قانونی راستے کھول کر کثیر زر مبادلہ کم سکتا ہے۔ اور دستیاب زمینی راستوں، براستہ ارندو، براستہ بگوشٹ براستہ ڈورا پاس، براستہ بروغل اور براستہ شندور ابھی سے چائنیز تجارت کے راستے کھول کر لواری ٹنل سے موثرا ستفادہ کر سکتا ہے۔ اور لواری ٹنل پر 60ارب سے زیادہ کے اخراجات کی واپسی کا ذریعہ بنا سکتا ہے ۔ ان راستوں کو چائنیز تجارت کے لئے کھول کر محفوظ کرکے ضلع چترال کی ضلعی حکومت مالی طور پر خود کفیل ہو سکتا ہے۔ اور کروڑوں روپے سالانہ پچھلے دور میں بھی کمایا جاتا تھا چونگی کے مد میں ، خاص کر گرم چشمہ کے Door Pass(دوراہ کو) چائنیز تجارت کے لئے کھولنے سے قیمتی پتھروں کی پشاور کے نمک منڈی تک پہنچانے کے لئے مختصر زمینی راستہ فراہم کرنے سے بے حد امدن پھر سے شروع ہو جائے گا۔ فلحال C130کارگو فلائٹس لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کراچی سے چترال خوروک تک چلا کر تجارت کے ذرائع سے استفادہ کرنا مزید وقت ضائع کئے بے غیر عین ممکن ہے۔
چترال چیمبر آف کامرس کے قیام نے چترال کے تجار برادری کے لئے سنٹرل ایشیا، افغانستان اور چائنا کے تجارتی وفود بھیج کر قدیم تجارتی تعلقات کو بحال کر سکتا ہے۔   چیمبر آف کامرس کی بھر پور مدد کریں گے۔ سرحد چیمبر آف کامرس سے بھی اس سلسلے میں رہنمائی، مدد اور سہولیات حاصل کی جاسکتی ہے۔
لواری ٹنل کے مکمل فعال ہونے سے تجارتی، سیاحتی اور ثقافتی تعلقات کو سنٹرل ایشیا ، افغانستان اور چائنا تک بڑھانا نہایت ضروری ہے

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں