82

حلقہ این اے 120 کے غیر سرکاری نتائج، کلثوم نواز ’کامیاب‘

 پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بعد اب الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر سرکاری طور پر نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار حنا سعید کے مطابق الیکشن کمیشن کے ریٹرنگ آفیسر نے تمام 220 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جبکہ حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان 19 ستمبر کو کیا جائے گا۔

ان غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی کلثوم نواز 61745 ووٹ لے کر پہلے جب کہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد 47099 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہیں۔

٭ کیا این اے 120 کی تاریخ بدلے گی؟

٭ لاہور میں نون لیگ کا کڑا امتحان

٭ مذہبی جماعت کی سیاسی جماعت اور آزاد امیدوار

لبیک پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر نے 7130 ووٹ حاصل کیے جبکہ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یعقوب شیخ نے 5822، پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل میر نے 1414 اور جماعت اسلامی کے ضیاالدین انصاری نے 592 ووٹ حاصل کیے۔

ریٹرنگ آفیسر کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں ٹرن آوٹ 39.42 فیصد رہا۔ حلقہ این اے 120 میں ووٹرز کی کل تعداد 321786 جبکہ کل 126860 ووٹ ڈالے گئے اور 1731 ووٹ مسترد کیے گئے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق اپنی والدہ اور مسلم لیگ ن کی امیدوار کلثوم نواز کو حاصل ہونے والی برتری پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں مبارکباد دی۔

مریم نواز نے کاکرکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں صاحب اگر آپ لندن میں سن رہے ہیں تو لاہور کہہ رہا ہے وی لوو یو۔‘

کارکنوں نے مریم نواز کے خطاب کے دوران بھرپور نعرے لگائے اور خوشی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر انھوں نے چند الزامات بھی لگائے اور کہا کہ ’یہ ان تمام قوتوں کی ناکامی ہے جو پاکستان کے منتخب وزراعظموں پر وار کرتی رہی ہیں۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر پنجابی میں اپنی پارٹی کا نعرہ لکھا: ’چوتھی وار فیر شیر۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی این اے 120 کے غیر سرکاری نتائج سامنے آتے ہی ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں اور خاص طور پر خواتین کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے انتخابی مہم کے دوران انتھک محنت کی۔‘

دوسری جانب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پیر کو پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتائیں گی کہ موجودہ حکومت نے ان کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں کی ہیں۔

’میں نے کہا تھا کہ میں جیتوں یا ہاروں میں الیکشن کمیشن میں جاؤں گی،۔۔۔۔ اس رزلٹ پر ان 29 ہزار ووٹوں کا سایہ پڑا ہوا ہے۔‘

واضح رہے کہ این اے 120، لاہور کی یہ نشست سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اس ضمنی انتخاب میں 32 آزاد اور مختلف سیاسی جماعتوں کے 12 امیدواروں نے حصہ لیا۔

Image caption پولنگ ختم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی امیدوار یاسمین راشد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

لاہور میں صبح سے دوپہر بارہ بجے تک ٹرن آؤٹ کافی کم رہا۔ ماہرین کے خیال ہے کہ اگرچہ ضمنی انتخاب ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا معمول ہے لیکن اس حلقے میں انتخاب کی اہمیت کے لحاظ سے اب تک کا ٹرن آؤٹ جنرل الیکشن کے مقابلے میں بہت کم تھا۔

اس کی ایک وجہ چھٹی کے دن کو بھی قرار دیا گیا تاہم بعد دوپہر پولنگ سٹیشنز کے باہر لوگوں کی قطاریں دیکھی گئیں۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق مزنگ اڈے اور یونیورسٹی آف وٹینری اینڈ اینیمل سائنسز میں قائم پولنگ سٹیشنز پر جہاں ملسم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا وہاں نعرے بازی ہوئی۔ تاہم فوج کی موجودگی کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

Image caption این اے 120 کے رہائشی طارق ارشد سیالکوٹ بارات لے جانے سے پہلے پوری بارات سمیت ووٹ ڈالنے آئے

اس ضمنی انتخاب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے این اے 120 کے رہائشی طارق ارشد جن کی اتوار کو شادی ہو رہی ہے سیالکوٹ بارات لے جانے سے پہلے پوری بارات سمیت ووٹ ڈالنے آئے۔

سوشل میڈیا پر ن لیگی کارکن شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں پرچیوں کے باجود ووٹ ڈالنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ انہیں مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز نے ٹویٹ کی کہ وہ ’پریشان نہ ہوں جیت ہماری ہی ہوگی۔‘

ڈاکٹر یاسمین راشد سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی اسی حلقے سے امیدوار تھیں اور انھوں نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے 91666 سے زیادہ ووٹوں کے مقابلے میں 52321 ووٹ حاصل کیے تھے۔

 

 

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں