82

میانمار سے نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمان ’بارودی سرنگوں سے معذور‘

بی بی سی نے ان روہنگیا مسلمانوں سے بات چیت کی ہے جو میانمار میں ہونے والے تشدد سے بھاگتے ہوئے بظاہر فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے زخمی ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ایسے ہی ایک 15 سالہ بچے کا علاج کیا جارہا ہے جو اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوچکا ہے۔

اسی ہسپتال میں ایک خاتون کا کہنا ہے کہ جب اس پر اور اس کے خاندان پر فائرنگ کی گئی تو ایک بارودی سرنگ پر گر گئی۔ دونوں معاملوں میں یہ واضح نہیں ہے کہ یہ بارودی سرنگیں کس نے بچھائی تھیں۔

خیال رہے کہ حالیہ چند ہفتوں میں تین لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار چھوڑا ہے جبکہ میانمار کی فوج عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتی ہے۔

روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟

میانمار کے رخائن میں   نامہ نگار نے کیا دیکھا؟

‘ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے’

اتوار کو انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کے حکام نے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

میانمار کے ایک فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ یہ بارودی سرنگیں 1990 کی دہائی میں سرحد کے ساتھ بچھائی گئی تھیں اور اس کے بعد سے فوج نے انھیں ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں کوئی بارودی سرنگ نہیں بچھائی گئی۔

بی بی سی نے جس ہسپتال کا دورہ کیا وہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں سے زخمی ہونے والے افراد زیادہ آرہے ہیں۔

Image caption راشدہ حق کا کہنا ہے کہ ان کہ 15 سالہ بیٹا بمشکل ہی زندہ رہ سکے گا

15 سالہ لڑکے عزیزو حق کی دونوں ٹانگیں بھی بری طرح زخمی تھیں۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی کا بھی یہی حال ہے جو ایک دوسرے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘ان کے زخم اتنے شدید تھے کہ جیسے وہ مر گئے ہوں۔ یہی اچھا ہوتا اگر اللہ انھیں بلا لیتا، وہ بہت تکلیف میں ہیں۔’

ایک اور زخمی خاتون سابقر نہار نے بتایا کہ انھوں میانمار چھوڑا کیونکہ فوج ان کی برادری کو نشانہ بنا رہی تھی، اور وہ ایک بارودی سرنگ کا نشانہ بنیں جب وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ سرحد عبور کر رہی تھیں۔

اس 50 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ ‘ہم پر گولیاں چلائی گئیں، اور انھوں نے یہ سرنگیں بچھائیں۔’

واضح رہے کہ میانمار میں پرتشدد واقعات 25 اگست کو شروع ہوئے جب روہنگیا عسکریت پسندوں نے شمالی ریاست رخائن میں پولیس چوکیوں پر حملہ کیا جس میں 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ان حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا جس پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی گئی۔

پیر کو انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد الحسین نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سکیورٹی آپریشن میں نشانہ بنایا جانا ان کی نسل کشی کی ‘واضح مثال ہے۔’

پیر جینیوا میں حقوق انسانی کمیشن کونسل میں روہنگیا کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے زید راض الحسین نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست رخائن میں جاری ‘ظالمانہ ملٹری آپریشن’ کو ختم کرے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ تیرہ ہزار ہو گئی ہے اور انھیں خوراک، ادویات اور خیموں کی ضرورت ہے اور میسر سہولیات ناکافی ہیں۔

Image caption مونگڈوا میں ایک جلا ہوا مسلم گاؤں

خیال رہے کہ ارکان روہنگیا سیلویشن آرمی (آرسا) نامی تنظیم نے میانمار کی فوج سے بھی کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔

تاہم اتوار کو حکومتی ترجمان زا ہتے نے کہا ہے کہ میانمار ‘دہشت گردوں’ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

اس سے قبل بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو ‘بڑی مثبت پیش رفت’ قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرین کی امداد کے لیے محفوظ رسائی مل سکے گی۔

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

Image caption میانمار کی فوج حالیہ دنوں میں لوگوں کی نقل مکانی روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کرتی ہے

خوفناک زخم – ریتا چکروتی، بی بی سی نیوز، بنگلہ دیش

میانمار کی فوج حالیہ دنوں میں لوگوں کی نقل مکانی روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کرتی ہے۔ اس کے باوجود ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پانچ ایسے مریض ہیں جو بارودی سرنگوں سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔

عزیزو حق کا جسم ایک دھماکہ میں زخمی ہوا، ان کی ٹانگیں ضائع ہوچکی ہیں اور پیٹ کے کچھ حصے بھی زخمی ہیں۔ ان کے ڈاکٹر نے جب ان کی جان بچانے کے بارے میں بات کی تو وہ واضح طور پر جذباتی تھے، انھیں اس بارے میں زیادہ امید نہیں رکھتے۔ عزیزو کا خون جس قسم ہے وہ ملنا مشکل ہے، اور ہسپتال میں بلڈ بینک بھی نہیں، اور خون عطیہ کرنے والوں کی کمی ہے۔

اس کے ساتھ والے وارڈ میں سابقر نہار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے تین بچوں کے پیچھے پیچھے میانمار کی سرحد عبور کی تھیں جو بغیر کسی چوٹ کے پار چلے گئے تھے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرنگیں کس نے کب بچھائیں جن کی وجہ سے لوگ زخمی ہوئے لیکن ان لوگوں کی حالت زار میانمار کی حکومت کے موقف کے برعکس کہانی بیان کرتی ہے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں