53

عید الاضحی کی تعطیلات کے دوران چترال کے طول وغرض میں تین افراد چاقوزنی، زہریلی خوراک کھانے اور ٹریفک کے حادثے میں جان بحق ہوگئے

چترال (نمائندہ آواز)عید الاضحی کی تعطیلات کے دوران چترال کے طول وغرض میں تین افراد چاقوزنی، زہریلی خوراک کھانے اور ٹریفک کے حادثے میں جان بحق ہوگئے ۔ چترال پولیس کے مطابق چاقو زنی کا واقعہ چترال ٹاؤن کے گاؤں مغلاندہ میں پیش آیا جہاں رشتہ نہ دینے کے تنازعے میں دو چچازاد بھائیوں محمد ناصر کے بیٹے ذکریااور سکندر خان کے بیٹے حسن احمد کے درمیاں عید کی رات ہاتھائی پائی ہوئی جس کے دوران حسن احمد نے ذکریاکوچھری مار دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال سے پشاور ریفر کردئیے مگر وہ لواری ٹنل کے قریب پہنچ کر زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ چترال پولیس نے ملزم حسن احمد کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ زہریلی خوراک کھانے کا واقعہ تورکھو وادی کے گاؤں ریچ میں واقع ہوا جہاں زبردست خان کے گھرمیں عید قربان کے بعد قربانی کا گوشت کھانے کے بعد گھر کے آٹھ افراد کی حالت غیر ہوگئی جنہیں فوری طور پر رورل ہیلتھ سنٹر شاگرام پہنچانے پر گیارہ سالہ بچہ ساجد علی خان دم توڑ گئے جبکہ ان کے تین بھائی سیف علی خان (عمر 5سال)، اکبر علی خان (سولہ سال)اور نوید علی خان (سات سال ) اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ چترال پولیس ضابطہ فوجداری کے دفعہ 56کے تحت انکوائری شروع کردی ہے۔ اسی طرح ٹریفک کا حادثہ وادی انجیگان کے خوبصورت گاؤں پرابیگ کے مقام پر پیش آیا جہاں گرم چشمہ سے گبور جانے والی ڈاٹسن گاڑی کھائی میں گرجانے کی وجہ سے ایک بچہ جان بحق اورتین بچوں سمیت 13خواتین زخمی ہو گئیں ۔ زخمیوں میں تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ چترال پولیس کے مطابق جان بحق ہونے والے بچے کا نام فرحان ولد مبارک شاہ جان ہے ۔درین اثناء چترال پولیس نے عید الاضحی کے موقع پر چترال شہر اور مضافات میں موٹر سائیکلوں کی بے تحاشا ڈرائیونگ کی انسداد کے لئے ڈی پی او چترال سید علی اکبر شاہ کی خصوصی حکم پر کم عمر ڈرائیونگ کرنے اور اپنے ساتھ دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کو روکنے کامیاب کاروائی جس کے نتیجے میں گزشتہ عیدوں کے مقابلے میں موٹر سائیکل حادثات کی شرح میں نمایان کمی آئی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ایمرجنسی ڈیوٹی انجام دینے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق اس دفعہ عید کے موقع پر نوعمر موٹر سائیکل سواروں کو حادثات کی تعداد بہت کم رہی ۔ چترال تھانہ کے ایک اہلکار کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران دو سو کے قریب نوعمر موٹر سائیکل سوار وں کو تیز رفتار ی سے روک دئیے گئے جبکہ ان کے سرپرستوں کی یقین دہانی پر ان کو چھوڑ دئیے گئے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں