61

ہم خود حیا کا جنازہ نکال چکے ہیں. اور اللہ کی غیض و غضب کو دعوت دے رہے ہیں.

 آیون عیدگاہ میں ہزاروں فرزندان توحید نے مولانا کمال الدین کی امامت میں نمازعید ادا کی. عیدالاضحی کے اس روح پرور اجتماع میں مولانا موصوف کا خاص موضوع چترال میں خواتین کی بازاروں میں خریدو فروخت کے حوالے سے تھا. ا نہوں نےاس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سنایا. کہ ریاستی دور میں ایک روز انگریز ڈاکٹر خلاف معمول اپنی بیوی کو لے کر چترال شاہی بازار کی سیر کی. حالانکہ اس وقت شاہی بازار چند کچی دکانوں پر مشتمل تھا. اور موجودہ حالات کے مقابلے میں اس وقت بازار میں لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی .اس کے باوجود انگریز کی یہ حرکت چترال کے باسیوں کو ایسی ناگوار گزری . کہ اس کے خلاف باقاعدہ طور پر احتجاجی جلوس نکالا گیا . اج عالم یہ ہے کہ ہماری گھر والیاں , بہن بیٹیاں بغیر محرم کے دکانوں پر خریداری کر رہی ہیں. چترال کی تعریف یہاں کی شرم و حیا اور شرافت کی وجہ سے کی جاتی تھی .آج ہم خود حیا کا جنازہ نکال چکے ہیں. اور اللہ کی غیض و غضب کو دعوت دے رہے ہیں.
Image may contain: one or more people, crowd and outdoor
Image may contain: one or more people, crowd, sky and outdoor
Image may contain: one or more people, people sitting and outdoor
Image may contain: 1 person, crowd, outdoor and nature

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں