92

پاکستان کی سرزمین پرآنےوالے بڑے زلزلے جس نے دنیا کو ہلاکررکھ دیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیس ) آزاد کشمیر اورخیبر پختون خوا میں 2005ء میں آنے والے زلزلے نے جو تباہی پھیلائی وہ کسی کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس علاقے میں 1555ء میں ہولناک زلزلہ آیا تھا۔ اس زلزلے کا تذکرہ فارسی اور سنسکرت زبان میں لکھی گئی قدیم کتابوں میں ملتا ہے۔ ان کتابوں کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کم وبیش ساٹھ ہزارا فراد ہلاک ہوگئے اور زیادہ تر اموات پہاڑی تودے گرنے سے ہوئیں۔ یہ زلزلہ کشمیر کے راجہ شمس شاہ کے دور حکومت میں آیا تھا تاہم انسانی جانوں کے نقصان سے متعلق واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ 2005 ء کا زلزلہ آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خوا کے علاقوں میں بھی آیا تاہم 1974ء میں بھی یہاں ایک بڑا زلزلہ آ چکا ہے۔اٹھائیس دسمبر کو آ نے والا یہ زلزلہ 6.2 کی شدت کا حامل تھا اور اس نے ہزارہ، سوات و ملحقہ علاقوں میں تباہی مچا دی تھی۔سرکاری رپورٹ کے مطابق اس زلزلے میں پانچ ہزار تین سو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ غیرسرکار ی اعدادوشمار کے مطابق یہ تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔

اس زلزلے کےنتیجے میں 17 ہزار افراد شدید زخمی ہوئے۔ زلزلے کے جھٹکوں سے پتن نامی گاؤں مکمل طور پر تباہ ہوگیا، اسی وجہ سے اسے پتن کا زلزلہ کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی پاکستانی علاقے میں آنے والا بڑا زلزلہ 1935ء کا کوئٹہ کا زلزلہ تھا جس میں محتاط اندازے کے مطابق 35ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.7 تھی اور وہ کشمیر میں آنے والے زلزلے سے زیادہ شدید تھا۔ یہ زلزلہ بلوچستان میں موجود غزہ بندفالٹ پر آیا اور اس کا مرکز بلوچستان کے گاؤں علی جان سے قریب تھا۔ 1935ء میں کوئٹہ ہی بلوچستان کا گنجان آباد علاقہ تھا۔ اسی لیے زیادہ تر اموات یہیں ہوئیں، تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کنکریٹ کی مضبوط عمارتوں کے علاوہ تمام شہر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ۔ کوئٹہ کے جنوب میں واقع شہر مستونگ میں 1736 اور کوئٹہ شہر کے قریب سریاب گاؤں میں 1206 افراد جاں بحق ہوئے۔ قلات میں دوہزار نو سو اورملحقہ قبائلی علاقوں میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق اس زلزلے میں 40ہزار دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس زلزلے کے جھٹکے وادی سندھ، افغان شہر قندھار اور سپن بولدک، بھارتی شہر امرتسر، شملہ اور آگرہ تک محسوس کیے گئے۔بلوچستان کی سرحد پر افغان علاقے میں ہونے والی تباہی کا ریکارڈ موجود نہیں، سات اکتوبر 2005ء تک یہ برصغیر پاک و ہند میں آنے والا سب سے خوف ناک زلزلہ تھا اور عشروں تک اس کی مثالیں دی جاتی رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق زلزلہ آنے سے قبل وادیٔ کوئٹہ کے پہاڑوں پر روشنی چمکتی دیکھی گئی، ماہرین ارضیات کے مطابق یہ زلزلہ کے مرکز کے قریب پیدا ہونے والی وہ روشنی تھی جسے ’’سیسمک لائٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ آج پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس میں ماضی میں دو ایسے زلزلے آچکے ہیں جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر دو لاکھ سے زائد انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ مگر تاریخی کتابوں میں اس کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں۔ ان میں سے ایک بھنبھور کا زلزلہ کہلاتا ہے جو 1050ء میں آیا اور اس میں کم و بیش ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے۔ اس کا مرکز موجودہ کراچی سے محض ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ دوسرا زلزلہ 1668ء میں پیری کے مقام پر آیا جہاں آج کل سٹیل مل واقع ہے۔ہوئیں۔ اندازے کے مطابق اس زلزلے میںبھی ایک لاکھ کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم اس اندازے کے حق میں کوئی واضح شہادت موجود نہیں۔ 26 ستمبر 1827ء کو لاہور کے نواحی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے ایک ہزار جانیں ضائع ہوئیں۔ 24جنوری 1852ء کو بلوچستان کے علاقے کاہان میں آنے والا زلزلہ 350جانیں لے گیا۔ 1883ء اور 89 میں بلوچستان ہی کے علاقے جھالاوان میں زلزلے سے خاصی تباہی ہوئی تاہم اس کی زیادہ تفصیلات ریکارڈ پر موجود نہیں۔ 20 دسمبر 1892ء کو چمن اور گردونواح میں آنے والے زلزلے نے دو سو کلومیٹر کے علاقے میں زمین کی شکل بدل کر رکھ دی اور ریل کی پٹڑیاں ٹیڑھی ہوگئیں۔ 20 اکتوبر 1909ء کو سبی اور لورالائی کے درمیانی علاقے میں 7.0 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سو افراد لقمہ اجل بنے۔ یکم فروری 1929ء کو بونیر اور ہزارہ کے علاقوں میں 7.9 کی شدت کا زلزلہ آیا جس سے متعدد گاؤں تباہی کا شکار ہوئے تاہم اس سے ہونے والے جانی نقصان کا ریکارڈ موجود نہیں۔ 27نومبر کو ساحل مکران کے قریب سونامی کی لہروں سے دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ 28دسمبر 1974ء کو مالاکنڈ کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے کم و بیش پانچ ہزار ہلاکتیں

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں