55

مجھے اسلام آباد والوں نے گھر بھیجا ہے، پاکستان کیلئے کچھ کرنا چاہتا تھا ، دھرنے والے آ گئے، پھر مولوی صاحب آ گئے، اس مولوی نے ملکہ برطانیہ کا حلف اٹھایا ہوا ہے، یہ پاکستان کیا لینے آ جاتا ہے؟‎

جہلم (آئی این پی)سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عوام سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ آپ ووٹ دیتے ہیںججز ایک منٹ میں ووٹ پھاڑ کرآپ کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں،5ججزنے ایک منٹ میں منتخب حکومت کو فارغ کر دیاجو کروڑوں ووٹوں کی توہین ہے،افسوس ہے کہ آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا،کرپشن نہیں کی تو پھر مجھے کیوں نکالا گیا، عوام کو ان ججزسے پوچھنا چاہیے، ہمارے دامن پر کوئی داغ نہیں، ملک کی امانت میں کبھی خیانت نہیں کی،نوازشریف کی بھی اس ملک کیلئے کچھ خدمات ہیں، نواز شریف وہی ہے

جس نے ایٹمی بٹن پر اپنا انگوٹھارکھا تھا، اس کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو، کیا جواب دو گے قوم کو اور خدا کو،بھٹکتا ہوا پاکستان اوپر آ رہا تھا کہ ایک بار پھر اس کا گلا دبا دیا گیا، خدا جانتا ہے کہ مجھے اپنی فکر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی فکر ہے، مجھے نہ نکالا جاتا تو ایک ایک بے روزگار نوجوان کیلئے ملازمت کا انتظام کرتا،مجھے اقتدار کی پرواہ نہیں آپ نے مجھے اسلام آباد اور اسلام آباد والوں نے مجھے گھر بھجوا دیا،وعدہ کیا تھا کہ اندھیروں کو ختم اور معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کروں گا ، آج ہم اپنے وعدوں کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں، انشاء اللہ اگلے سال لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ،پاکستان 70سال سے ادھر ادھر بھٹک رہا ہے، قانون ڈکٹیٹر توڑتے ہیں اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کہتے ہیں کہ مشرف صاحب آپ نے نواز شریف کو نکال کے بہت اچھا کیا،ڈکٹیٹر کمر میں دردکا بہانہ بنا کر ملک سے باہر نکل گیا،ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو ڈکٹیٹر کو سزا دے سکے،ہم نے کام شروع ہی کیا تھا کہ ایک طرف دھرنے والے مولوی صاحب کینیڈا سے اور دوسری طرف الزام تراشی والا گروپ آگیا،مولوی صاحب کے دل میں ہر 3 مہینے بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے،وہ ملکہ برطانیہ کا حلف اٹھا کر بات پاکستان کی کرتے ہیں۔وہ جمعرات کو لاہور جاتے ہوئے ریلی کے جہلم میں پڑائو کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔محمد نوازشریف نے کہا کہ جس والہانہ طریقے سے جہلم کے غیور لوگوں نے مجھے خوش آمدید کیا میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ آپ کا شکریہ ادا کر سکوں ، 2013میں آپ کے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ ملک بڑی مشکل میں ہے اس کے ڈیفالٹ کا خطرہ ہے ، ملکی معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے ، ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا ، غریب کا کوئی والی وارث نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ٹیوب ویل چلانے کیلئے بجلی نہیں تھی ، سی این جی اسٹیشنز پر گیس لینے والوں کی لمبی لمبی قطاریں تھیں ،ایسے وقت میں،میں نے وعدہ کیا تھا کہ اندھیروں کو ختم کروں گا ، معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کروں گا ، آج روشنیاں واپس لوٹ رہی ہیں ، ہم اپنے وعدوں کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں، انشاء اللہ اگلے سال لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ، پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہم لڑے اور پاکستان میں تقریباًخاتمہ کر چکے ہیں، ہم نے کراچی میںجرائم کے خاتمے اور بلوچستان کی ترقی کیلئے کام کیاہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور کراچی خدانخواستہ مسائل میں ڈوب رہے تھےجن پر ہم لوگوں نے خصوصی توجہ دی اور کراچی اور بلوچستان کو سنبھالا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی سے خیبر تک موٹرویز بن رہی ہیں، میری حکومت چلی گئی، 5ججز ایک منٹ میں منتخب حکومت کو فارغ کر دیتے ہیں جو کروڑوں ووٹوں کی توہین ہے،کرپشن نہیں کی تو پھر مجھے کیوں نکالا گیا، عوام کو ان ججز سے پوچھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان ججوں نے بھی کہا کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی تو پھر مجھے کیوں نکالا گیا، عوام کو ان ججز سے پوچھنا چاہیے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی عوام کو ججزسے پوچھنا چاہیے کہ منتخب وزیراعظم کو کیوں فارغ کیا گیا، ہمارے دامن پر کوئی داغ نہیں، ملک کی امانت میں کبھی خیانت نہیں کی، عوام کے پیسے کی حفاظت کی ہے، کوئی مجھے سمجھائے کہ مجھے کیوں نکالا گیا، پاکستان کو اندھیروں سے نکالنے، روشنیوں کی طرف لوٹنے ، سی پیک لا رہا تھا،شاید اسی لئے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا جانتا ہے کہ مجھے اپنی فکر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی فکر ہے،مجھے نہ نکالا جاتا تو ایک ایک بے روزگار نوجوان کیلئے ملازمت کا انتظام کرتا۔ نواز شریف نے کہا کہ 70سالوں سے اس قوم کے ساتھ مذاق ہوتا آیا ہے، کوئی بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا، ہمیں کچھ کرنا ہے ،کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج تک کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ آپ کو اور مجھے مل کر اس ملک کیلئے کچھ کرنا ہے، کبھی کوئی ملٹری ڈکٹیٹر اور کبھی کوئی جج آ کر منتخب حکومت کو چلتا کر دیتا ہے،مجھے اقتدار کی پرواہ نہیں آپ نے مجھے اسلام آباد اور اسلام آباد والوں نے مجھے گھر بھجوا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی عزت عزیز ہے،اسلام آباد سے واپس اپنے گھر جا رہا ہوں، مجھے صرف اپنے ملک کے نوجوانوں کی ترقی اور تقدیر بدلنے کی فکر ہے، میں آپ کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا، ہم نے کام شروع ہی کیا تھا کہ دھرنے والے مولوی صاحب کینیڈا سے آ گئے، دوسری طرف سے الزام تراشی والا گروپ ان کے ساتھ مل گیا، ہر تین مہینے بعد مولوی کے دل میں پاکستان کا درد جاگتا ہے، دھرنے والے آ گئے، پھر مولوی صاحب آ گئے، اس مولوی نے ملکہ برطانیہ کا حلف اٹھایا ہوا ہے، یہ پاکستان کیا لینے آ جاتا ہے؟‎ملکہ برطانیہ کا حلف اٹھا کر وہ بات پاکستان کی کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد پانامہ کیس آ گیا، یہ دھرنا نمبر2آ گیا، اس کیس میں مجھے کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے نکال دیا گیا کہ میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی، بھلا کوئی بیٹے سے بھی تنخواہ لیتا ہے، نہیں لی تو تمہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 70سال سے ادھر ادھر بھٹک رہا ہے، ہر وزیراعظم کو صرف ڈیڑھ سال ملا ہے، ڈیڑھ سال بعد اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ ڈکٹیٹروں نے 10, 10سال حکومتیں کی ہیں،ڈکٹیٹر کمر میں دردکا بہانہ بنا کر ملک سے باہر نکل گیا،اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو ڈکٹیٹر کو سزا دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ڈکٹیٹر توڑتے ہیں اور ایسے ججز پ
ی سی او کے تحت حلف اٹھا کر ڈکٹیٹروں کے اقتدار کو جائز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مشرف صاحب آپ نے نواز شریف کو نکال کے بہت اچھا کیاہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کی بھی اس ملک کیلئے کچھ خدمات ہیں، نواز شریف وہی ہے جس نے ایٹمی بٹن پر اپنا انگوٹھارکھا تھا، اس کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو،کیا جواب دو گے قوم کو اور خدا کو،یہ قوم ان سب سوالوں کا جواب مانگتی ہے، ہم نے بھٹکتے پاکستان کی سمت درست کرنی ہے، پاکستان اوپر آ رہا تھا کہ ایک بار پھر اس کا گلا دبا دیا گیا،ہم نے اس ملک کو مہذب ملک بنانا ہے، قانون کی حکمرانی بہتر بنانی ہے، جس کو آپ ووٹ دے کر اقتدار میں بھیجیں اسے آپ ہی ووٹ کے ذریعے گھر بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب وعد کرو کہ آپ سب میرا ساتھ دیں گے، میرا ایجنڈا اور پروگرام آپ کے سامنے آئے گا، آپ لوگوں کو میرے ساتھ چلنا ہے اور پاکستان کو اعلیٰ مقام دلوانا ہے، میں آپ کے پیاس خود کو بحال کروانے نہیں آیا۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں