134

چترال کے بعض پارٹی قائدین الیکشن کو کفر اور اسلام کی جنگ قرار دے کر علاقے میں مذہبی تفرقہ بازی کو فروغ دے رہے ہیں/ایم این اے شہزادہ افتخارالدین

Home >> تازہ ترین >> چترال کے بعض پارٹی قائدین الیکشن کو کفر اور اسلام کی جنگ قرار دے کر علاقے میں مذہبی تفرقہ بازی کو فروغ دے رہے ہیں/ایم این اے شہزادہ افتخارالدین
 

ترال ( م ین ) رکن قومی اسمبلی چترال شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے ۔ کہ چترال کے بعض پارٹی قائدین الیکشن کو کفر اور اسلام کی جنگ قرار دے کر علاقے میں مذہبی تفرقہ بازی کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اُن قائدین کا اپنا کردار اسلام کو شرماتا ہے ۔ کیونکہ اُن کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے ، چترال شاہی مسجد میں خطیب کو شہید کرکے الیکشن کیلئے سازش کی جال بُننے کی کوشش کی جارہی تھی ۔ لیکن اللہ پاک نے اُن افراد کی سازش کامیاب نہ ہو نے دی ۔ ہم فرقہ واریت کو چترال کیلئے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔ اور ایسے گھناونے طریقے سے اقتدار تک پہنچے کی کوشش کرنے والے ہماری نظر میں چترالی قوم کے مجرم ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال میں ایل پی جی گیس پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے اپنے ہوٹل میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں شہزادہ خالد پرویز ، سینئرجنرل منیجر سوئی ناردرن گیس اعجاز احمد ، انجینئر صولت رشید لون کے علاوہ مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور عمائدین موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو لوگ اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرتے ہیں ۔ اُن کا کام بھی گلی کوچوں کی تعمیر حد تک محدود ہے ۔ اس لئے لوگوں کو بار بار دھوکا دے کر اسلام جیسے عظیم مذہب کے بارے میں عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو لوگ خود کو مدینے کی خلافت کے داعی قراردیتے ہیں ۔ اُن کو ضلعی حکومت میں فنڈ تقسیم کرتے وقت مستوج ، یارخون ، لاسپور اور دیگر مقامات کیوں نظر نہیں آتے۔ جہاں لوگ انتہائی مشکل میں ہیں ۔ اور مدد کے زیادہ حقدار ہیں ۔ ایم این اے نے کہا ۔ کہ مجھے اس بات پر ہنسی آتی ہے ۔ کہ بعض پراجیکٹ پر پی ٹی آئی اور ضلع ناظم دونوں کی تختیاں لگی ہوئی ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہے ، کہ ان دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹ بول رہا ہے ۔ اور عوام سے منافقت کر رہا ہے ۔ ہم اس قسم کے کریڈٹ کے طلبگار ہیں ۔ اور نہ ایسی نیچ سیاست کے قائل ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی ذاتی دلچسپی سے چترال کے صرف دو میگا پراجیکٹ لواری ٹنل اور 106میگا واٹ گولین ہائیڈل پراجیکٹ پر گذشتہ چار سالوں کے دوران 50ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔ اور یہ دونوں منصوبے تقریبا مکمل ہو چکے ہیں ۔ جن کا افتتاح وزیر اعظم اپنے اگلے دورۂ چترال میں کریں گے ۔ گولین سے چترال کو تیس میگاواٹ بجلی کی فراہمی کیلئے وزیر اعظم نے 8اکست 2014کو اپنے دورۂ چترال کے موقع پرحکم دیا ہے ۔ سی پیک کا منصوبہ وزیر اعظم نے 2016میں منظور کیا ۔ اور چترال میں سیلاب و زلزلے کے موقع پر وزیر اعظم نے 2ارب 22کروڑ روپے چترال کے متاثرین کو دیے ۔ ان کے علاوہ چترال کے اندر سڑکوں کی تعمیر کیلئے تقریبا 14 ارب روپے حالیہ بجٹ میں منظور ہو چکے ہیں ۔ جن پر کام بہت جلد شروع کیا جائے گا ۔ اور سڑکوں کی یہ تعمیر چترال میں ایل پی جی گیس پلانٹ کی تنصیب کیلئے راہ ہموار کرے گا ۔ اس موقع پر جی ایم اعجاز احمد نے حاضریں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کے کئی مقامات میں گیس پلانٹ لگانے کیلئے سروے کئے گئے ہیں ۔ تاہم ابتدائی طور پر ایون اور دروش میں یہ پلانٹ لگائے جائیں گے ۔ اور بتدریج دوسرے مقامات تک اس کو بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس پلانٹ سے گیس کی مستقل سپلائی کیلئے بڑی ٹرالروں میں گیس چترال منتقل کی جاتی رہے گی ۔ اجلاس کے دوران مختلف سوالات کئے گئے ۔ جن کے جوابات ایم این اے شہزادہ
افتخار الدین ، جی ایم اعجاز احمد اور شہزادہ خالد پرویز نے دی ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں