38

وہ گزری شب

 
جنرل ضیاالحق نےاپنی شہادت سے پہلےدرخت کیوں کٹوائے
 

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان….شفق

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جون 76ءکو افغان صدرسردار دائود کے اعزاز میں مری میں ضیافت رکھی۔ افغان صدر کو وزیراعظم پاکستان ڈیورنڈ لائن تنازع کے خاتمے کیلئے شیشے میں اتار رہے تھے۔ انکی پذیرائی کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔ بھٹو نے جیل سے اپنی بیٹی بینظیر بھٹو کے نام خط میں لکھا کہ ڈیورنڈ لائن تنازع کے تصفیے پر انکے اور صدر دائود کے درمیان اتفاق ہو گیا تھا، اب ایک معاہدہ ہونا تھا مگر اس سے قبل جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگا دیا۔ بھٹوصاحب کی ویسے بھی روایت تھی کہ وہ بیرونی سربراہان کو بلاامتیاز چھوٹا بڑا ملک ہونے کے، مکمل احترام دیتے تھے۔ روایت سے یاد آیا کہ سردار داﺅد کے پیشرو ظاہر شاہ کے اعزاز میںبرطانیہ کے دورے کے موقع پر ملکہ نے عشائیہ دیا۔ کھانے کے اختتام پرشرکاءکے سامنے لیموں والا پانی رکھا گیاتو افغان صدر ہاتھ دھونے بجائے اسے پی گئے مگر ملکہ سمیت سب لوگ بھی اس لئے یہ پانی پی گئے کہ مہمان کو سبکی محسوس نہ ہو۔

مری میں مہمان صدر کے احترام اور استقبال کیلئے میزبان وزیراعظم چند منٹ پہلے پنڈال میں چلے آئے تھے۔ جنرل ضیاءالحق ایک طرف سگریٹ کے کش لگاتے کسی کے ساتھ محوِ گفتگو تھے۔ حفیظ پیرزادہ نے ضیاءکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مجھے یہ خطرناک لگتا ہے۔ بھٹو صاحب نے کہا ابھی دیکھ لینا۔ بھٹو نے جنرل صاحب کو بلایا تووہ سگریٹ مسل کر جیب میں ڈالتے ہوئے انکی طرف چلے آئے۔

بھٹو کے سامنے آرمی چیف جنرل محمد ضیاءالحق ہمیشہ انکساری و عاجزی کا مرقع بنے ہوتے تھے۔ سلگتی سگریٹ بجھانے کے حوالے سے ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے جو بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ غوث بخش باروزئی اپنے والد محترم محمد خان کے حوالے سے سنایا تھا ۔”یہ امریکہ کے 200ویں یوم آزادی کی اسلام آباد کے سفارتخانے میں پُرشکوہ تقریب تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی اس محفل میں رونق افروز تھے۔ یہ جاگتی شب 4 اور 5 جولائی کے سنگم پر تھی۔ گورنر سٹیٹ بنک غلام اسحق خان اورآرمی چیف جنرل ضیاءالحق ذرا فاصلے پر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بھٹو صاحب نے انہیں دیکھا تواسی طرف چلے آئے۔ جنرل ضیاءالحق کی اپنے باس پر اچانک نظر پڑی تو کچھ سہمے اور کچھ سراسیما ہوئے۔انکے رویے سے یہی ظاہر ہورہا تھا۔ اس وقت تک کش لگا چکے تھے، احترام اور بدحواسی کی ملی جلی کیفیت میں سگریٹ مسل کر پتلون کی جیب میں ڈالا اور دھواں نگل گئے۔یہ انکی طرف سے اپنے وزیراعظم کیلئے بظاہر انتہائی ادب اور احترام کا اظہار تھا مگر اسکے تین گھنٹے بعد جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا“۔

 چاراور پانچ جولائی کی وہ شب گزر گئی ہے۔ طرب اور کرب کی شب۔گزشتہ شب امریکہ اور پاکستان سمیت دنیابھر کے سفارتخانوں میں امریکی یوم آزادی پر جشن منایا گیا۔عین چالیس سال قبل اس شب کے بعد پاکستان کی سیاست نے ایک نیا رُخ اختیار کیااور اسی شب کے بطن سے نفرتوں کا ایک لاوہ پھوٹا جسکے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست جمہوریت اور سیاسی رویوں میں موجود ہیں۔ اس شب کو نکال دیا جائے یا یہ شب ٹل جاتی تو بھٹو پھانسی نہ لگتے۔جنرل ضیاءالحق اس ایئر کریش سے بچ جاتے جس میں انکے ساتھ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت، ایک امریکی سفیر اور دوسرا امریکی بریگیڈئر جنرل تیل اور بارود کے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر کوئلہ بنے ،خاک میں خاک اور دریا کنارے راکھ ہو گئے تھے۔ یہ شب آئے بغیر بیت جاتی توبینظیر اور نواز شریف کو جلا وطنی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ زرداری کمپنی اقتدار میں آ کر وسائل پر شب خون مارتی نہ ملک طویل عرصہ تاریکیوں میں ڈوبا رہتا۔ یہ شب ٹل جاتی تو کراچی میں ”دہوش“ اور دہشت و وحشت کی حکمرانی نہ ہوتی۔ احتساب آرڈیننس چوروں لٹیروں اور کرپٹ لوگوں کیخلاف لایا گیا۔ آج سندھ حکومت نے چوروں کو بچانے کیلئے نیب آرڈیننس کے خاتمے کا بل منظور کرا لیا ہے۔ وہ شب نہ آتی تو پاکستان میں وہ بہت کچھ نہ ہوتا جو قوم و ملک کیلئے سوہانِ روح ہے، کم از کم سیاچن تو بھارت کے قبضے میں نہ جاتا۔ کچھ لوگوں کو اُس وقت تو وہ شبِ متبرک مقدس اور معطر نظر آئی مگر بعد میں وہ بھی کہہ اُٹھے۔

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

اس شب کے باعث ہی جہاں بینظیر بھٹو کی خوشیاں، غموں میں ڈھل گئیں، دنیا اجڑ گئی تاہم وہ اقتدار میں بھی اسی کے سبب آئیں اور میاں نواز شریف آج تیسری بار وزیراعظم بھی اسی شب کے صدقے ہیں مگر ان پر اب جو افتادپڑی نظر آتی ہے شاید انکے دل و دماغ کے کسی کونے سے یہ آواز اٹھتی ہوگی کہ وہ شب نہ آتی تو اچھا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کال کوٹھڑی میں چھت کی طرف ٹکٹکی باندھے سوچا ہو گا کہ سکندر مرزا ان کو سینما سے اٹھا کر وزیر تجارت نہ بناتے تو اچھا تھا۔ وہ جس شب کا تذکرہ ہو رہا ہے، اسکے کردار اپنے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ بھٹو اور ضیاءکا انجام بخیر نہیں ہوا۔خاتمہ بالخیرہو تو خیر ہی خیرہے۔

عمومی انسانی فطرت کے تحت وقتی مفادات اور مصلحتوں کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کئے اور اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ہماری مقتدر اشرافیہ کی تو عادتِ میں قومی مفادات قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ کبھی تو ایسے فیصلے بھی کئے جاتے ہیں کہ اپنے گلے میں پھندا فٹ ہو جاتا ہے۔ پانامہ کہانی ایک ایسی ہی داستان بنتی جا رہی ہے۔اقتدار تاراج ہوتا،تخت لرزتااور تاج اچھلتے نظر آ رہے ہیں۔ اسحق ڈار جے آئی ٹی کے سامنے محض پون گھنٹہ ٹکے مگر باہر آئے تو لگا، توے پر بیٹھے رہے اور عمران خان نے نیچے آگ جلائی ہوئی تھی۔ پیشی کے بعد کہا کہ عمران خان جاہل، جھوٹا، بدکردار، جواری، بزدل اور ٹیکس چور ہے جو شادی چھپاتا ہے۔ اسحق ڈار اس لب و لہجے میں عموماً بات نہیں کرتے مگر وہ اور انکے ساتھی جس طرح جے آئی ٹی، عدلیہ اور فوج پر گرج رہے ہیں،برس رہے ہیں پلٹ کر جھپٹ رہے،یہ انکی بے چینی،پریشانی اور بے تابی کا شاخسانہ ہیں۔ ایسے میں ایسی انہونی خارج از امکان نہیں بلکہ ضروری ہو گئی ہے جو اس معاملے کو خش و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے، اسکی پلاننگ کہیں نہ کہیں ہو رہی ہو گی، جس پر عمل کےلئے زیادہ وقت نہیں ہے۔ اسحق ڈار نے یہ بھی کہا کہ عمران سے تماشہ کوئی اور کرا رہا ہے۔ پاکستان میں عموماً ایسے تماشے ہوئے جو کوئی اور کراتا رہا ہے۔

ایک تماشہ آج ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کنٹریکٹر نے بھی لگا رکھا ہے۔ اس کتاب میں ریمنڈ ڈیوس نے بڑے بڑے اعترافات اور ہوشربا انکشافات کئے ہیں۔ وہ اپنی رہائی میں صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی، مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف، آرمی چیف جنرل کیانی،ڈی جی ،آئی ایس آئی شجاع پاشا کی اپنی رہائی کردار کو کھل کر بیان کرتا ہے۔ جنرل شجاع پاشا رہائی میں سب سے زیادہ سرگرم رہے۔ پاشا کا شکرگزار ہونے کے بجائے ان پر کیچڑ اچھالا گیا ہے کہ انہوں نے کیسے مقتولوںکے لواحقین کو دیت پر رضامند کرنے کیلئے دھمکایا اور حبس بیجا میں رکھا گیا۔ ان کو 23 کروڑ روپے آئی ایس آئی نے اپنی جیب سے ادا کئے۔ بعدازاں امریکہ نے ادائیگی کی تھی۔ میڈیا کا ایک حصہ بھی شجاع پاشا کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا اپنے محسن ادارے پر یوں سنگ باری معمہ نہیں ہونا چاہئے۔ اسے یہ کتاب لکھنے پر ”را“ کے سابق سیکرٹری جگ ناتھن کمار نے آمادہ کیا اورمرضی کے مندرجات شامل کرالئے ۔ آج بھی پاکستان میں ایک طبقہ فوج کو بدنام کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ حکومت اور فوج کے مابین تعلقات بھی مثالی نہیں۔ ایسے میں کنٹریکٹر کا منظرعام پر آنا اور یوں پھیلایا جانا بھی کسی سازش کا عکاس نظر آتا ہے۔ شجاع پاشا کو جو ٹاسک دیا گیا وہ انہوں نے پورا کر دکھایا۔ یقیناً وہ ملکی مفاد میں ہرگز نہیں تھا۔ باز پُرس ان سے ہونی چاہیے جو پاشا سے یہ کام کرا رہے تھے۔ آرمی چیف کی مرضی کے برعکس وہ ایک قدم بھی آگے بڑھانا تو کیا اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس نے خود کرداروں کی نشاندہی کر دی ہے۔ سید ظفر علی شاہ ان کیخلاف عدالت بھی چلے گئے ہیں۔ دوسری طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈٹ کر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی مخالفت کی جسکے نتیجے میں وہ وزارت سے گئے۔ اگر باقی کردار بھی ڈٹ جاتے تو ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا۔ شاید جان نہیں تو اقتدار جانے کا خدشہ تھا کہ اوباما کو انکار نہ کیا جا سکا۔

آج کہاں ہیں پاشا؟ کہاں ہیں کیانی؟؟ وہ ماضی کا حصہ بن گئے۔زندگانی بھی ایک شب کی مانند ہے۔ نواز شریف وزیراعظم بن گئے، زرداری کو ایک بار پھر اقتدار کاہما سر پر منڈلاتا نظر آتا ہے مگر یہ شب بھی ختم ہونی ہے۔یہ وہ شب ہے جس کے بارے فیض احمد فیض نے کہا تھا

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

بلاشبہ جو لالچ، مصلحتوں اور مفادات میں گزرے گی وہ شب غم، شبِ ستم، شبِ ماتم اور شبِ پُرنم ہو گی۔ ابھی انکے ہاتھ میں ہے کہ اس شب کو شبِ نعم بنا کر معاشرے میں عدل و انصاف کے دور دورے، ظلم و غربت کے خاتمے کیلئے بسرکریں تو انکی نسلوں کا بھی احترام سے نام لیا جاتا رہے گا۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں