162

چترال کے دو مختلف علاقوں میں خودکشی کے واقعات میں تین افراد نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا

چترال (نمائندہ آواز) چترال کے دو مختلف علاقوں میں خودکشی کے واقعات میں تین افراد نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔ چترال پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بونی کے نواحی گاؤں جنالی کوچ میں پیش آیا جہاں روحیلہ دختر بلبل محمد خان نے اس وقت طیش اور مایوسی میں اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا جب ان کی منگیتر کے باپ نے منگنی کے خاتمے کا اعلان کردیا جوکہ چھ ماہ پہلے طے پاگئی تھی۔ چترال پولیس نے منگیتر محمد الیاس اور ان کے باپ محمد جاوید کو گرفتار کرکے ان کے خلاف تغزیرات پاکستان کے دفعات 34اور 322کے تحت مقدمہ درج کردیا ہے۔ خود کشی کا دوسرا واقعہ دروش ٹاؤن کے قریبی گاؤں وارڈاپ میں پیش آیا جہاں مولدہ چترال کی رہائشی انیس احمد ولد مرزہ محمد اور وارڈاپ کی شہریا ناز دختر ظفرالدین نے اس وقت یکے بعد دیگر ے دریا میں چھلانگ لگاکر موت کو گلے لگادیا جب ان کو ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو میں مشغول پاکر مقامی لڑکوں نے دونوں کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لئے۔ پولیس کے مطابق شہریا ناز نے لڑکوں کی منت سماجت کرکے موبائل فون واپس لینے میں ناکام ہوکر دریا میں چھلانگ لگادی جس کے بعد انیس احمد بھی دریا میں کود گئے۔ شہریا ناز کی منگنی چند ماہ پہلے قریبی گاؤں میں ہوئی تھی اور انہیں ڈر تھا کہ موبائل فون سے ان کا راز افشا ہوجائے گا۔ دریں اثنا ء چترال پولیس نے موبائل فون اپنے قبضے میں لینے والے جوانوں عزیز الرحمن، اسحق اور صادق کو پوچھ گچھ کے لئے اپنے حراست میں لے لیا ہے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں