61

توانائی بحران پر قابو پانا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویدارحکمران اب2018میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنارہے ہیں۔عنایت اللہ خان

پشاور ( آوازنیوز )سینئرو زیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان غیر اعلانیہ طویل ترین لوڈشیڈنگ بلاجواز اور خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ ظلم ہے ۔رمضان اور شدید گرمی کے موسم میں خیبرپختونخواکے روزہ کے حالت میں عوام سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں۔ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ اور سب سے سستی بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور دستو ر پاکستان کے رو سے اس بجلی پر سب سے پہلاحق خیبرپختونخوا کے عوام کا ہے ۔ حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان اور گرمیاں شروع ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا عذاب عوام جھلینے پر مجبور ہیں۔پورے ملک میں بجلی کی طویل بندش کاسلسلہ جاری ہے۔سحروافطار کے اوقات میں بھی بجلی میسرنہیں۔عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔توانائی بحران پر قابو پانا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویدارحکمران اب2018میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنارہے ہیں۔صنعتیں بند اور کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں۔سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اپنے ضرورت سے چار سو گنا زیادہ بجلی پید ا کر رہا ہے اور خیبرپختونخوا میں بجلی کی طویل ترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی معطل ہوچکی ہے ، انڈسٹریل ایریا صنعتی قبرستان بن چکے ہیں ۔ ہسپتالوں میں مریض ، سکولوں میں بچے اور صوبے کے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لیں اور خیبرپختونخوا کودیوار سے نہ لگائیں ۔انہوں نے کہا کہ واپڈا خیبرپختونخوا کو اپنے حصے کا کوٹہ نہیں دے رہا ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ دشمنی کررہا ہے ۔وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں