88

صوبے کے اندرسنیٹیشن کی ازسر نو تعریف و تشریح کی ضرورت ہے جبکہ صوبے کے بڑے شہروں اور قصبوں کے اندرصاف پانی کے پائپ کی لائنوں کو گندگی کی نالیوں سے علیحدہ کرناہوگا۔ وزیر بلدیات

پشاور ( آوازنیوز )خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی و پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز لوکل گورننس سکول حیات آباد میں پری بجٹ سیمینارواٹر ایند سینیٹیشن مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں جنوبی و شمالی اضلاع اور پشاور کے( مرکزی علاقوں) کو سینیٹیشن کے حوالے سے ماڈل کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیاجس سے مذکورہ علاقوں میں صفائی ستھرائی ، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی بہتر سہولیات لوگوں کو فراہم ہو سکیں گی۔اجلاس میں کوارڈنیٹر واٹسن سیل سید رحمن کے علاوہ یونسیف کے سجاد اکبر، پلان انٹر نیشنل کے محمد یونس ، آئی آرسی کے اکرام ، لوئر واٹر ایڈ کے ندیم اور WHO ، خزانہ اور بلدیات وغیرہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس کو بتایا گیا۔ کہ صوبے کے اندرسنیٹیشن کی ازسر نو تعریف و تشریح کی ضرورت ہے جبکہ صوبے کے بڑے شہروں اور قصبوں کے اندرصاف پانی کے پائپ کی لائنوں کو گندگی کی نالیوں سے علیحدہ کرناہوگا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہو ا کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت کو سنیٹیشن کے حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو کو تمام بلدیاتی اداروں کیلئے آسان اور عام فہم بنایا جائے۔ سینئر وزیر نے سنیٹیشن اجلاس کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے وسیع پیمانے پر مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر کسی بھی شعبے کے مقررہ اہداف کا حصول مشکل ہے۔ عنایت اللہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لوگوں کو پینے کیلئے صاف پانی ، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے موجود تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں