58

پاک افغان تعلقات میں بگاڑ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں،دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،۔ سراج الحق

سوات(آوازنیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پانامہ سکینڈل میں کسی عالم دین یا دینی مدرسے کے طالب علم کا نام نہیں ،آف شور کمپنیاں ان لوگوں کی ہیں جو جدید تعلیمی اداروں سے فارغ ہیں،انگریز کے غلاموں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کلیئر ثابت نہیں اس لئے وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں،پاک افغان تعلقات میں بگاڑ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں،دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،پاک افغان تعلقات کی کشیدگی کافائدہ امریکہ اورہندوستان کو ہے ،حکومت ملی تو ہم یونیورسٹیوں اور کالجز کی طرح مدارس کیلئے بھی بجٹ مختص کرینگے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کے مختصر دورہ کے دوران بلوگرام میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبرپختونخوا عبد الواسع،امیر جماعت اسلامی ضلع سوات محمد امین اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ امریکہ مسلمانوں کو فارمی مرغیاں بناناچاہتاہے ،اسلام ہمیں غیرت اور بتوں سے بغاوت کرنے کا حکم دیتاہے ،انہوں نے کہا کہ مغرب آزادی اظہار رائے کے نام پر ہماری شریف خواتین کے سروں سے دوپٹے اتار کرانہیں رسواکرناچاہتا ہے مغربی تہذیب کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا وقت ہے،انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن خصوصاً سوات میں دینی مدارس کے طلبہ کو تنگ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے،دینی مدارس ہماری نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں ہم کسی صورت دینی مدارس کے طلبہ کو بے جا تنگ کرنے نہیں دینگے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی زندہ باد اور مردہ باد کی پارٹی نہیں یہ معاشرہ، عقیدہ ،رویہ اعمال اور کردار میں انقلاب کی پارٹی ہے،انہوں نے کہا کہ آج کروڑوں انسان اگر پریشانی میں مبتلاء ہیں تو اسکی وجہ قران و سنت کی تعلیمات سے دوری ہے،،انہوں نے کہا کہ اس ملک کو گزشتہ 70سال سے نام نہاد سیاستدانوں نے لوٹا ہے اور انہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ان سیاسی برہمنوں کی وجہ سے ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کو خطرات لاحق ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاست وجمہوریت کو یرغمال بنانے والے مخصوص ٹولے کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں افراتفری،بدامنی،بے روزگاری،مہنگائی کاراج ہے ہماری سرحدیں انہی پالیسیوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں اور آج اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی صورتحال ہے تو یہ حکمرانوں کی اسی ناقص خارجہ وداخلہ پالیسیوں کانتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم برسر اقتدار آکر ایسی خارجہ و داخلہ پالیسی مرتب کرینگے کہ جو عوامی امنگوں کے مطابق ہوگی ، جس میں شہریوں کو ان کے حقوق بھی ملیں گے اور وہ پرسکون وپرامن زندگی گزار سکیں گے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے دشمن ہر روز ہمارے بارڈرپر حملے کررہا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ملک میں کوئی نیاقانون لانے کیلئے نہیں بلکہ اسی قانون کی بالادستی کیلئے سیاست کررہی ہے جس کیلئے پاکستان بنا تھا پاکستان اسلامی نظام کیلئے بنا تھا اسی نظام کے نفاذ کیلئے اس ملک کا اسلامی آئین اور قانون موجود ہے لیکن ہماری اشرافیہ اس قانون کو پاؤں تلے روند رہی ہے ۔ہماری جدوجہد اسی آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے ہم اس قانون و آئین پر عمل کرتے ہوئے اس ملک میں اسلامی و فلاحی معاشرہ قائم کریں گے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں