162

کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے ۔ آئندہ کوئی بھی پولیس آفیسر انسداد دہشت گردی ایکٹ کو اپنے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال نہ کرسکے ۔مولانا عبدالاکبر چترالی -ATA

پشاور ( آوازنیوز)جمعیت اتحاد العلماء خیبر پختونخوا کے صدر ، سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی چترال علی اکبر کو فوری طوری پر معطل کر کے جوڈیشل انکوائری کی جائے ایس پی چترال نے کسی عدالتی ریمانڈ کے بغیر ختم نبوت ﷺاور ناموس رسالت کیلئے احتجاج کرنے والے آقائے دوجہاں ﷺکے پروانوں کو ٹارچر کرکے ظلم کی انتہا کردی ہے ۔ انسداددہشت گردی کے دفعات ایس پی چترال کے خلاف لگا کر ان پر مقدمہ چلایا جائے جنہوں نے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرکے پولیس گردی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ایس پی علی اکبر کو فی الفور چترال سے نکالاجائے اور اگر ایک ہفتے کے اندر اندر اس کو چترال سے نہ نکالاگیا تو اس کے خلاف باقاعدہ تحر یک شروع کی جائیگی ۔انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اورآئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 20 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت غیر اخلاقی ، غیر آئینی اور غیرقانونی جو ایف آئی آر کا ٹی گئی ہے اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے ۔ اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی پولیس آفیسر انسداد دہشت گردی ایکٹ7-ATAکو اپنے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کل ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈی آئی خان میں تمام قیدیوں سے جو کہ روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زخمی ہو کر ہسپتال میں زیر علاج ہیں فرداً فرداً ملاقات کی، تمام قیدی نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرکے ہمیں جھنجوڑ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبین کے ماننے والے تم کہاں ہو ۔ قانون کہا ں ہے اور ہمارے حکمران کہاں ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قانون کے رکھوالے نے دوسروں کو قانون کو ہاتھ میں نہ لینے کا سبق دے کر خود ماورائے قانون بے گناہ لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ملعون رشید کا دماغی تواز ن بالکل ٹھیک ہے ، اگر وہ پاگل ہوتا تو عدالت کے سامنے پاگل پن کا مظاہرہ کرتا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایس پی چترال نے بڑے تیکنیکی انداز میں کراس ایف آئی آر کاٹی ہے، نبوت کا دعویٰ کرنے والے مرتد رشید پر 295-A/295-C/7-ATAدفعات لگائے ہیں جبکہ احتجاج کرنے والوں پر بھی یہی دفعات لاگو کئے ہیں۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں