71

اسیران تحفظ ناموس رسالتؐ کو فوری طور رہا کیا جائے؛ ملعون کو پھانسی دیجائے/دروش کے علماء کا مطالبہ

دروش (نامہ نگار) جمعہ کے روز دروش پولیس اسٹیشن میں ایس ایچ او تھانہ دروش کی دعوت پر مقامی علمائے کرام اور عمائدین علاقہ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں علمائے کرام اور عمائدین نے شاہی مسجد چترال کے واقعے کو چترال کے امن و امان کو خراب کرنے کی ایک سوچا سمجھا منصوبہ بندی قرار دیااور اس سلسلے میں حکومت سے مختلف مطالبات پیش کئے گئے تاکہ آئندہ کے لئے کسی کو چترال کے امن سے کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام گرفتار افراد جوکہ ’’ اسیران ناموس رسالتؐ اور اسیران تحفظ ختم نبوتؐ ہیں ،انہیں فوری طور پر پولیس کی حراست سے رہا کیا جائے اور بے جا طور پر مسلمانان چترال کو تنگ کرنے کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے۔ مطالبہ کیاگیا کہ گستاخ رسول ؐ اور منکر ختم نبوتؐ کو فوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کے مطابق سزائے موت دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی توہین رسالت ؐ اور توہین مذہب کے ارتکاب کی جرات نہ ہو۔ شرکائے اجلاس نے مطالبہ کیا چونکہ یہ مقدمہ بلا تفریق اہل اسلام کا مقدمہ ہیلہذا مذکورہ کیس کے سلسلے میں دروش کے علماء کو بھی وقتاً فوقتاً با خبر رکھا جائے تاکہ مجرم کو قانون سے بچانے کے تمام دروازے قانون کے مطابق بند کئے جا سکیں اور مجرم کو سخت سے سخت سزا دیا جاسکے۔اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اس مقدمے میں ان سازشی عناصر ، جوکہ ممکنہ طور پر رشید نامی شخص کو استعمال کئے ہیں، ان عناصر کے حوالے سے مکمل تفتیش کرکے واقعے کی تہہ تک پہنچا جائے تا کہ مسلمانان چترال خصوصاً اور مسلمانان عالم عموماً سکھ کا سانس لے سکیں۔ اجلاس میں علمائے کرام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سالمیت ، امن وامان کی بحالی کیلئے علماء اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے اور انتظامیہ سے بھی یہی توقع ہے کہ انتظامیہ علمائے کرام کے مثبت تجاویز پر عمل کرکے حسب سابق چترال کو امن کا گہوارہ قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں