98

چالیس سالوں سے پاکستان میں مہاجرین قیام پذیر ہیں ۔ لیکن تاحال مہاجرین کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے ۔میمونہ خان

چترال ( نمایندہ آواز ) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزنر ایڈ )  اور آئی سی ایم سی کے اشتراک سے تحفظ انسانی حقوق اور مہاجرین کے حقوق پر ایک روزہ ورکشاپ چترال پریس کلب میں منعقد ہوا ۔ جس میں چترال پریس کلب اور ریڈیو سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی ۔ صدر پریس کلب چترال مہمان خصوصی تھے ۔ اس موقع پر خطاب کرتی ہوئی ڈائریکٹر شارپ میمونہ خان نے کہا ۔ کہ گذشتہ چالیس سالوں سے پاکستان میں مہاجرین قیام پذیر ہیں ۔ لیکن تاحال مہاجرین کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے ۔ صرف ایڈ ہاک بنیادوں پر اُن سے ڈیل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ افغان مہاجرین کو ابتدائی طور پر کیمپوں تک محدود کر دیا گیا تھا ۔ لیکن 1997سے جب مہاجرین کو روزگار کیلئے کیمپوں سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ۔ اُس کے بعد مختلف مسائل نے جنم لیا ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر چہ افغان مہاجرین کی واپسی کے سلسلے میں عوامی سطح پر بات اُٹھ رہی ہے ۔ لیکن مہاجرین کی واپسی میں اُن کے اپنے علاقوں میں کئی مشکلات درپیش ہیں ۔ جن کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اور یہ مسائل حل کئے بغیر اُن کو جبراً واپس نہیں بھیجا جا سکتا ۔ جو بین الاقوامی اُصولوں کے خلاف ہے ، اور ایسے اقدامات سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اور اس موقع پر قاضی سجاد احمد نے چترال میں شارپ آفس کے قیام اور اُس کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا ۔ جبکہ منصور خان نے انسانی حقوق کے بنیادی تصور ، انسانی حقوق اور آئین پاکستان ، بین الاقوامی قوانین اور پاکستان میں اُن پر عملدر آمد ، حقوق و فرائض اور ریاست و اُس کے اداروں کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا ، کہ مہاجرین کو کسی ملک میں داخلے سے روکنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ غیاث گیلانی ایڈوکیٹ نے پاکستان میں مہاجرین کی انٹر نیشنل قوانین کے تحت حقوق کے تحفظ ، مہاجرین کے حقوق ،موجودہ حالات میں مہاجرین کیلئے کئے جانے والے اقدامات ، مہاجرین کارڈ وغیرہ کے بارے میں پیچیدگیوں کے حل اور قانونی معاملات پر عملدر آمد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ورکشاپ سے ایما فرنسس اور عمران دستگیر نے بھی خطاب کیا ۔ ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں کئی مسائل زیر بحث آئے ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں