62

ملعون کے ارتکاب فعل کے بعد عوام کی طرف سے رد عمل ایک فطری امر تھا ۔ دینی جماعتوں ، علماء اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی کوششوں سے مجرم کو سزا دینے کیلئے قانون کے مطابق تمام درکار مواد کو جمع کیا گیا ۔ اور اُس کے خلاف توہین رسالت و دہشت گردی قانون کے مطابق سزا دینے کیلئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ حاجی مغفرت شاہ

ملعون کے ارتکاب فعل کے بعد عوام کی طرف سے رد عمل ایک فطری امر تھا ۔ دینی جماعتوں ، علماء اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی کوششوں سے مجرم کو سزا دینے کیلئے قانون کے مطابق تمام درکار مواد کو جمع کیا گیا ۔ اور اُس کے خلاف توہین رسالت و دہشت گردی قانون کے مطابق سزا دینے کیلئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ حاجی مغفرت شاہ
چترال (نمائندہ آواز ) ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ نے امیر جمیعت العلماء اسلام مولانا عبد الرحمن قریشی ، ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور ، امیر جماعت اسلامی ، مولانا جمشید احمد مولانا حسین احمد ، خان حیات اللہ خان ، مفتی محمود الحسن کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ گذشتہ روز ایک ملعون شخص کی وجہ سے چترال میں جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے ۔ چترال کے تمام سرکاری ادارے ، عوام اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ملعون کے ارتکاب فعل کے بعد عوام کی طرف سے رد عمل ایک فطری امر تھا ۔ لیکن خدا کا شکر ہے ۔ کہ دینی جماعتوں ، علماء اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی کوششوں سے مجرم کو سزا دینے کیلئے قانون کے مطابق تمام درکار مواد کو جمع کیا گیا ۔ اور اُس کے خلاف توہین رسالت و دہشت گردی قانون کے مطابق سزا دینے کیلئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے چھ قوی شہادتیں جج کے سامنے ریکارڈ کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس سلسلے میں علماء نے جو کردار ادا کیا ۔ وہ لائق تحسین و آفرین ہے ۔ ضلع ناظم نے کہا ۔ کہ یہ پہلا موقع ہے ۔ کہ چترال کی اسماعیلی کمیونٹی نے نہ صرف اس ملعون و مردود شخص کے فعل کی پُر زور مذمت کی ۔ بلکہ اس واقعے کے خلاف اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے علماء نے اپنی دینی اور قانونی فریضہ انتہائی احسن طریقے سے انجام دیا ۔ اور مردان کے واقعے کی طر ح غیر قانونی اقدام اُٹھانے کا موقع کسی کو فراہم نہیں کیا ۔ اب یہ کام عدالت کا ہے ۔ کہ وہ اس شخص کو اُن کے کئے کی سزا دے ۔ ضلع ناظم نے کہا ، کہ چترال میں آیندہ چار پانچ سالوں کے دوران بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے ۔ اور یہ واقعہ چترال کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایک بڑی سازش تھی ۔ جسے سب نے مل کر ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ در اصل یہ سازش چترال کی دو کمیونٹیز کو لڑانے کیلئے بُنا گیا تھا ۔ لیکن خدا کے فضل سے سماج دشمن عناصر اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ مغفرت شاہ نے کہا ۔ کہ یہ بات انتہائی خو ش آیند ہے ۔ کہ آٹھ گھنٹے مسلسل تناؤ اور تصادم کے باوجود کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اُنہیں رہا کرنے کیلئے بات طے ہو چکی ہے ۔ اس موقع پر مولانا عبد الشکور نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اس قسم کا واقعہ مردان میں رونما ہوا تھا ۔ جس میں لو گ اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے ۔ جبکہ چترال مسجد کے اندر اُسی قسم کا واقعہ رونما ہونے کے باوجود علماء نے جو کردار ادا کیا ۔ وہ سب کے سامنے ہے ۔
Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں