67

چترال میں ایک شخص کی طرف سے مبینہ طور جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے کی وجہ سے حالت انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں ۔ مظاہرین نے چترال تھانے پر سنگ باری کی اور رپورٹنگ روم کے شیشے توڑ دیے ۔ جس کے جواب میں پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔ اس تصادم میں تین افراد احسان ساکن مغلاندہ ، الطاف گل ولد معراج گل ریحانکوٹ اور محمد حسین زخمی ہوئے

چترال ( نمائندہ آواز ) چترال میں ایک شخص کی طرف سے مبینہ طور جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے کی وجہ سے حالت انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں ۔ اور جمعہ کی شام تک چترال پولیس اور مظاہرین کے مابین سنگ باری اور انسو گیس کے شیلنگ وغیرہ سے تین افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔ نماز جمعہ کے دوران شاہی مسجد میں چترال کے بالائی گاؤں ریچ سے تعلق رکھنے والے رشید خان ولد محمد نور نے مبینہ طور پر نبوت کا دعوی کیا ۔ جس پر لوگوں نے اُسے مارنے کی کوشش کی ۔ تاہم بعض افراد نے اُسے قریبی چترال تھانہ پہنچایا ۔ نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں افراد چترال تھانے کے سامنے جمع ہوئے ۔ اور جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والے کو فوری طور پر اُن کے حوالے کرنے اور قتل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مظاہرین نے بعد آزان چترال تھانے پر سنگ باری کی اور رپورٹنگ روم کے شیشے توڑ دیے ۔ جس کے جواب میں پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔ اس تصادم میں تین افراد احسان ساکن مغلاندہ ، الطاف گل ولد معراج گل ریحانکوٹ اور محمد حسین زخمی ہوئے ۔ چترال میں کشیدہ حالات کی وجہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ جبکہ چترال پولیس کی بھاری نفری جو کاغلشٹ فیسٹول کی سکیورٹی کی ڈیوٹی پر تھے واپس بلالئے گئے ہیں ۔ حالت کو کنٹرول کرنے کیلئے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس ، ڈپٹی کمشنر چترال اور ضلع ناظم چترال نے لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی اور یقین دلایا ۔ کہ مذکورہ شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی ۔ لیکن مطاہرین نے کسی کی بات نہیں مانی ۔ اور بدستور نبوت کے جھو ٹے دعویدار کو سر عام قتل کرنے کا مطالبہ کررہے ۔ مظاہرین کا یہ کہنا ہے ۔ کہ اس شخص کو اگر چھوڑ دیا گیا ۔ تو اس قسم کے کئی اور نبوت کے جھوٹے دعویدار نکل آئیں گے ۔ اس لئے اس کو فوری طور پر سزا دی جائے ۔ چترال پولیس اور مظاہرین کے درمیان جمعہ کے بعد سیکرٹریٹ روڈ میدان کار زار بنا رہا ۔ اور مظاہرین و پولیس ایک دوسرے پر پتھروں آنسو گیس کے شیلز برساتے رہے ۔ درین اثنا ڈپٹی کمشنر چترال کے آفس میں حالات سے متعلق ایک ہنگامی میٹنگ کی گئی جس میں سیکورٹی کے حوالے سے فیصلے کئے گئے ہیں ۔ جھوٹی نبوت کے دعویدار کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔ کہ قطر میں ذہنی توازن خراب ہونے کی بنا پر اُسے واپس گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ اور حالیہ دنوں میں اُس کابھائی اُسے علاج کیلئے پشاور لے جارہاتھا ۔ کہ یہ واقعہ رونما ہوا ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں