63

ریشنلائزیشن کے نام پر ایک استاد پر چالیس طلباء کی پڑھائی کی ذمہ داری ڈالنا ظالمانہ فیصلہ ہے ۔ محمد ظفر

چترال ( نمائندہ آواز ) آل ٹیچرز ایسوسی ایشن چترال نے جمعرات کے روز چترال پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا ۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ غیر مشروط ٹائم اسکیل ، این ٹی ایس اساتذہ کی مستقلی ، اساتذہ کے بچوں کیلئے کوٹہ کی منظوری ، ٹیچنگ الاؤنس ، چھٹیوں میں کنونس الاؤنس کی کٹوتی بند کرنے اور پرائمری اساتذہ کیلئے امتحانی ڈیوٹیوں میں مناسب کوٹہ دینے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اساتذہ کی نمایندگی کرتے ہوئے ، محمد ظفر ، قاری محمد یوسف اور مختار احمد نے کہا ۔ کہ اسا تذہ کو ان مطالبات کے حل کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی طرف سے یقین دھانی کی گئی تھی ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ابھی تک ا س پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے اساتذہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ریشنلائزیشن کے نام پر ایک استاد پر چالیس طلباء کی پڑھائی کی ذمہ داری ڈالنا ظالمانہ فیصلہ ہے ۔ جسے واپس لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی سطح پر آل ٹیچرز کی قیادت اور اساتذہ نے ان مطالبات کے حق میں جس احتجاج کا آغاز کیا ہے ۔ چترال کے آل ٹیچر اُس کی بھر پور حمایت کرتے ہیں ۔ اور صوبائی قیادت کے تمام ہدایات و احکامات پر عمل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں