76

سیپ نامی سافٹ وےئر جس کے تحت کو ئی بھی شحص جو اس سافٹ وےئر کے بارے میں جان کاری رکھتا ہے وہ کسی بھی محکمے کا بجٹ اور اخراجات چیک کرنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں

پشاور( نمائندہ حصوصی )یو ایس ایڈ کے ذیلی ادارہ سمال گرانٹس اینڈ ایمبیسڈر فنڈ اورغیر سرکاری تنظیم” ایس ڈی پی آئی” نے پشاور میں سول سوسائٹی تنظیموں کے عہدیداروں،عوامی بلدیاتی نمائندگان،سرکاری ملازمین اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے تربیتی ورکشاپ کے اختتام پراسناد تقسیم کرنے کے حوالے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ ورکشاپس میں حکومتی اداروں کی بجٹ سازی ، اُن کی صحیح خرچ اور استعمال کو شفاف بنانے کیلئے کمپیوٹرکی ایک سیپ نامی سافٹ وےئر کے ذریعے شرکاء کوآ گاہ کیاگیا، اس سافٹ وےئر کے ذریعے ایک عام شہری حکومتی اداروں کے پراجیکٹ کیلئے مختص شدہ اور خرچ ہونے والے رقم کا پورا موازنہ کر سکتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ ایک عام شہری کو یہ بات سامنے آئیگی کہ قومی خزانے سے خرچ ہونے والا رقم آیا صحیح جگہ استعمال ہوا یا نہیں ۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس سافٹ وےئر کے ذریعے ایک عام شہری تمام سرکاری اداروں کا جانچ پڑتال گھر بیٹھے بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ ان ورکشاپس کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ بجٹ سازی کے عمل میں پاکستانی شہریوں کو بھر پور نمائندگی دی جائی۔ ایس ڈی پی آئی کے پروجیکٹ کوارڈنیٹر سید حسن مرتضٰی، ماسٹرسینئر کنسلٹنٹ نوید علی خان اور وسیم خان نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے ذیلی ادارے سمال گرانٹس اینڈ ایمبیسڈر فنڈ اور ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام اس ورکشاپ کا مقصد سرکاری نیم سرکاری، سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں کو ضلع سطح پر بجٹ بنانے کا طریقہ کار اور اسی عمل کے تمام مراحل سے آگاہی فراہم کرنا ہے ہم نے صوبہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع پشاور اور ہری پور میں تقریباً 180 لوگوں کو تربیت فراہم کی ہے بجٹ بنانے کے عمل میں شفافیت کی کمی کو دور کرکے عوام دوست بجٹ بنائے جائیں اس کے علاوہ محکموں کو ملنے والے بجٹ سے خارج شدہ رقم یا استعمال شدہ رقم کو چیک کرنے کے لئے ورکشاپ میں حصہ لینے والے شرکاء کو سیپ نامی سافٹ وےئر کا تعارف کروایا گیا جس کے تحت کو ئی بھی شحص جو اس سافٹ وےئر کے بارے میں جان کاری رکھتا ہے وہ ضلع صوبائی یا وفاقی سطح کے کسی بھی محکمے کا بجٹ اور اخراجات چیک کرنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں۔پروگرام کے آخر میں ورکشاپ میں حصہ لینے والے شرکاء میں اسنادتقسیم کی گئی۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں