143

کہوار زبان کو مجوزہ مردم شماری کے فارم میں باقاعدہ طورپر جگہ دی جائے ۔پی ٹی آئی ضلعی صدر چترال عبدالطیف

پشاور ( نمائندہ خصوصی)مردم شماری اور خانہ شماری کا بنیادی مقصد کسی بھی ملک کی اجتماعی منصوبہ بندی اور تمام شعبوں کا اعداد و شمار جمع کرنا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے ادارے لکیر کے فقیر بنے بیٹھے ہیں اور 1901کے انگریزوں کے تیار کردہ پرفارمہ سے ایک انچ آگے پیچھے جانے کے صلاحیت نہیں رکھتے ۔ ان خیالات کاا ظہار تحریک انصاف کے صدر عبدالطیف نے اخباری بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں ملک کے تمام لیسانی اور نسلی گروپوں کا صحیح اعداد و شمار اکھٹا کیا جاتا ہے لیکن مجوزہ مردم شماری میں کہوار زبان کا شامل نہ ہونا چترالی قوم کے لئے ناقابل قبول ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری کے فارم میں پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی زبانوں کا اندراج کیا جائے تاکہ پاکستان کی ہمہ جہت ثقافتی رنگ کا صحیح تعین کیا جاسکے ۔ ورنہ مجوزہ مردم شماری بھی پاکستان میں موجود تنوع کی صحیح عکاسی نہیں کر سکے گی اور نہ ہی چھوٹی قومیتوں اور چھوٹی زبانوں کا تحفظ کیا جاسکے گا انہوں نے کہاکہ کہوار صوبہ خیبرپختونخوا کی تیسری بڑی زبان ہے جو چترال کے علاوہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور سوات کے بعض حصوں میں بولی جاتی ہے ۔ یہ زبان اپنے اندر ادب اور شعر و سخن کا ایک عظیم خزانہ لئے ہو ئے ہے ۔ اس لئے ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کہوار زبان کو مجوزہ مردم شماری کے فارم میں باقاعدہ طورپر جگہ دی جائے

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں