172

چترال میں سیلاب کی بڑی وجہ جنگلات کی تیزی سے خاتمہ ہے ۔ عنایت اللہ خان

پشاور( پ ر ) سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا و پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ جن اقوام پر قدرتی سانحات اور سختیاں آتی ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں اور قوم میں شعور بیدار کرتے ہیں وہ اقوام دنیا میں بلند ترین مقام حاصل کرتے ہیں ۔اداروں کی آپس میں رابطوں اور منصوبہ بندی سے عوامی مسائل میں کمی آتی ہے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے مل کر کام کریں توایک بہتر مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا مضبوط سٹرکچر قائم ہونا چاہئے جو وسائل اور استعداد کار کے حوالے سے مضبوط ہو اور ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر حرکت میں آسکے۔قدرتی آفات کی بڑی وجہ درختوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہے ۔ ملک بھر میں جنگلات کے فروغ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے اور شجر کاری کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا چاہئے۔جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور جنگلات کی کٹائی اور ٹمبر مافیا کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے ۔چترال میں سیلاب کی بڑی وجہ جنگلات کی تیزی سے خاتمہ ہے ۔چترال میں موجود جنگلات کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کام ہورہا ہے۔وہ پشاور کے مقامی ہوٹل میں گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے پے درپے قدرتی سانحات ، بم دھماکوں، خودکش حملوں اور انسانی ہاتھ کے پیدا کردہ دیگر ڈیزاسٹر کے واقعات سے متاثرہ شہر پشاور کو سانحات سے بچاؤ اور پیشگی منصوبہ بندی کے حوالے سے الخدمت فاؤنڈیشن اور رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے ایک روزہ فوکس گروپ ڈیسکشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے ۔ سمینارکی صدارت الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر خالد وقاص نے کی۔ جبکہ اس موقع پر پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر امیر نواز خان ، پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن ، رفاہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کامران اعظم ، الخدمت پاکستان کے سابق مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ضلع ناظم پشاور ارباب محمد عاصم ، ناظمین سردار عالم خان ، محمد فیاض خان سمیت قدرتی سانحات سے متعلق اداروں کے اعلیٰ حکام اور سی این ڈبلیو، ڈبلیو ایس ایس پی، پی این ڈی، ڈبلیو ایچ او ، ایرگیشن ، ریسکیو1122 ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سمیت دیگر سرکاری وغیر سرکاری اداروں، سماجی وفلاحی تنظیموں کے نمائندوں اور معززین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سیمنار کے احتتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ جس میں تجویز دی گئی کہ پشاور میں ڈیزاسٹر کے حوالے سے پیشگی اطلاع کے لیے جدید ریڈار سسٹم کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی۔2017-18 بجٹ میں ایک فی صد رقم قدرتی سانحات سے بچاؤ کے لئے مختص کی جائے اور 50 فیصد مختص بجٹ ریسرچ پر خرچ کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ سی پیک روٹ پر عملی کام کے آغاز سے قبل اس خطے میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سروے کیا جائے۔ سانحات کے حوالے سے تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلشن شپ کو عملی بنایا جائے۔اس موقع پر ضلع ناظم پشاور ارباب محمد عاصم نے الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ ڈیزاسٹر کے سلسلے میں مل کر کام کرنے کی یقین دھانی کرائی اور پشاور میں جدید ڈیزاسٹر سنٹر کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کا اعلان کیا

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں