61

تودے سے متاثرہ شیرشال کریم آبادکے58 گھرانوں کومحفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔متاثرین کاپریس کانفرنس

چترال (بشیر حسین سے )سانحہ شیرشال کے متاثرین تاج محمد،ظفرمحمد، نادرخان،حسین خان،دیدارعلی شاہ اورادینہ شاہ نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی ، صوبائی اور ضلعی حکومت سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیر شال برفانی تودے گرنے کی وجہ سے جن لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ان کے گھروں کی تعمیر کے لیے فوری طورپر بندوبست کیے جائیں کیوں کہ یہ لوگ آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ آئندہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مستقل اور ٹھوس بنیادوں پراقدامات اُٹھائی جائے۔ کیونکہ گاؤں مکمل طور پر غیر محفوظ ہوگیاہے۔ گاؤں کا آدھا حصہ لینڈ سلانڈنگ کی وجہ سے پہلے سے متاثر ہے۔ اور باقی حصہ برفانی تودوں کی زد میں ہے۔ گاؤں کا روڈ بھی علاقے کے خطرناک ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک ایسے علاقے میں زندگی بسر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسلئے وفاقی ،صوبائی اور ضلعی حکومت گاؤں کے 58 گھرانوں کی جانی تحفظ کے لئے لوگوں کو کسی محفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔اور گورنمنٹ خود متاثرہ علاقے کا معائنہ کرے۔ علاقے میں لوگوں کی جانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہاکہ 5 فروری کی رات تقریبا ڈیڑھ بجے شیرشال کریم آباد میں برفانی تودہ گرنے المناک حادثے میں 9 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اور چار افراد زخمی ہوئے۔ شدید برفباری کی وجہ سے گاؤں کا دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع ہونے کے باؤجود بھی گاؤں کے والنٹئرز جن میں فوکس کے تربیت یافتہ بندے بھی شامل تھے، اپنی مد د آپ کے تحت راتوں رات لاشوں اور زخمیوں کو برفانی تودوں کے نیچے سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔زخمیوں میں ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہے۔ اس المناک حادثے میں آٹھ گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ چھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اور درجنوں مویشی برفانی تودوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد سب سے پہلے تھانہ شغور کے ایس 150ایچ 150او اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پہنچ گئے۔ واقعے کے تیسرے دن بعد ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تحصیلدار گل فراز شاہ اورنظام الدیں نے لواحقین میں تین تین لاکھ روپے کا چیک تقسیم کیا۔ اور ڈاکٹر سمیع اللہ کیجانب سے زخمیوں کو ابتدائی طورپر طبی امداد دی گئی۔ واقعے کے چھ دن بعد گاؤں کے والنٹئرز نے دو شدید زخمیوں کوا سٹریچر کے ذریعے آٹھ کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے ایمبولنس تک پہنچایا جہاں سے انھیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال منتقل کیے گئے۔ علاقے کی دشواری اور راستہ انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے پاکستان آرمی کی جانب سے 9 دن بعد متاثریں میں امدادی اشیاء گاؤں میں لاکر تقسیم کی گئی۔ پاکستان ہلال احمر نے مقامی ایل۔ایس 150او کاڈو کے ساتھ ملکر متاثرین میں کاڈو آفس میں امدادی سامان تقسیم کی۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تقریباًچھ کلومیٹر تک سڑکوں سے برف تو ہٹالیے لیکن درمیان میں ایک جگہ بھاری تودے کی وجہ سے راستہ تا حال بند ہے اور متاثریں کے امدادی سامان اب بھی کاڈو آفس میں پڑے ہیں۔اُنہوں نے اپنی طرف سے اور مقامی عمائدین کی طرف سے پاکستاں آرمی کے کور کمانڈر ، چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ، ڈپٹی کمشنر چترال ،ڈی پی او پولیس، ایم این اے شہزادہ افتخار ،ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ ، ایم پی اے سلیم خان، جماعت علماء اسلام چترال کے امیر قاری عبد الرحمن قریشی ، پاکستان ہلال احمر ، فوکس اور اے 150کے۔آر 150ایس پی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اُنہوں نے ہمارے ساتھ اپنی تعاون کو جاری رکھا۔اُنہوں نے حکام بالا اورسی اینڈ ڈبلیو سے پُرزور مطالبہ کیا کہ علاقے کے سڑکوں کو جلد از جلد آمدروفت کے قابل بنایا جائے تاکہ اشیاء خوردنی سمیت راستے میں پڑے ہوئے امدادی سامان علاقے میں پہنچائی جائے ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں