80

پورا چترال آفت کی زد میں ہے ۔ اس لئے سفر کے دوران انتہائی احتیاط برتا جائے ۔تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس

چترال ( پ ر) تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے کہا ہے ۔ کہ آفات قدرت کی طرف سے مشکل امتحان ہوتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اپنے رب سے خیر کی دُعا کرنی چاہیے ۔ اور موجودہ وقت میں چترال کے لوگ بہت بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں ۔ ان حالات میں باہمی ہمدردی ، مدد اور تعاون کی آشد ضرورت ہے تاکہ مصیبت زدہ لوگ خود کو تنہا نہ سمجھیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز راغ کے مقام پر مٹی کا تودہ گرنے سے متاثر ہونے والے گھر کے دورے کے موقع پر گھر کے سربراہ شیر اعظم اور دیگر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے متاثرہ گھر کے نقصات کا جائزہ لیا ۔ جس میں بتایا گیا ۔ کہ گھر کے لوگ معجزانہ طور پر تودہ گرنے کے موقع پر گھر میں موجود نہیں تھے ۔ تاہم تودہ گھر کے ایک حصے پر گرنے سے دو کمروں سمیت مویشی خانہ اور سٹور کو مکمل تور پر ملیامیٹ ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں دو گائے پندرہ مرغیاں 200فٹ عمارتی لکڑی اور سٹور میں موجود خوراک ملبے میں تلے دب گئے ، اور لاکھوں کا نقصا ن ہوا ۔ نیز اس مقام پر دوبارہ رہائش اختیار کرنا خطرے سے خالی نہیں ، اور اُنہیں نقل مکانی کرنی پڑی ہے ۔ تحصیل ناظم نے اُنہیں تسلی دی ، کہ اُن پر مشکل وقت آن پڑی ہے تاہم وہ اُن کے ساتھ ہر ممکن مدد کریں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ خاندان کی خوش قسمتی ہے ۔ کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،جبکہ چترال میں گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران کئی قیمی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ جن کا کوئی نعم البدل نہیں ، اور آفات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی گھر مکمل طور پر نیست و نابود ہوگئے ہیں ۔ اور سینکڑوں مال مویشی ہلاک ہو گئے ہیں ۔ جبکہ کئی افراد زخمی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی مشکلات سے غافل نہیں ہے ۔ اس لئے حتی المقدور متاثرین کی امداد کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ پورا چترال آفت کی زد میں ہے ۔ اس لئے سفر کے دوران انتہائی احتیاط برتا جائے ۔ بلکہ غیر ضروری سفر سے پر ہیز کیا جائے ۔ کیونکہ شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے برف کے ذخیرے اور زمین نرم ہو گئی ہے ، اس لئے کسی بھی وقت تودے اور پتھر گرنے کے خدشات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کئی علاقوں میں روڈز کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اور متعلقہ اداروں سے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کیلئے بھرپور طریقے سے کام کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے چترال بونی روڈ میں مختلف مقامات پر بجلی کی لٹکتی تاروں کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا ۔ اور پیڈو سے اپیل کی ۔ کہ آمدورفت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے ان تاروں کو بحال کیا جائے ۔ یا اُنہیں سڑک سے ہٹا دیا جائے ۔ تاکہ جانی نقصانات کے خدشات کم ہو سکیں ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں