129

عالی شان وزیراعلیٰ -عظیم الشان منصوبے

عالی شان وزیراعلیٰ -عظیم الشان منصوبے

میاں شہباز شریف نے اپنا آپ منوانے کے لئے اور اپنا نام کمانے کے لئے شیر شاہ سوری اور فرہاد کو مات دے دی ہے۔

گزشہ روز انہوںنے اورنج ٹرین کی مہورت کی تقریب سے خطاب کیا۔ وہ عزم صمیم سے سرشار تھے گو ان کے راستے میں رکاوٹیں ہمالیہ سے بلند ہیں۔ ان کے حریفوں نے انہیں عدالتوں کے ذریعے جکڑ رکھا ہے ورنہ یہ اورنج ٹرین اس سال کے آخر تک اپنے سفر کا آغاز کر چکی ہوتی اور لاہور شہر کے گنجان ترین اور پس ماندہ ترین علاقوں کے مسافر اس ٹرین سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے۔
شہباز شریف ایک خونی انقلاب کی بات کرتے رہتے ہیں، مجھے اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی، مگر تازہ تقریر میں انہوںنے واضح کر دیا کہ جو لوگ خود تو نت نئی پجارو، لینڈ کروزروں، مرسیڈیزوں میں سفر کے شوقین ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ محروم افراد بھی جدید سہولتوں سے فیض یاب ہوں۔ میں نے اس کا عملی مظاہرہ فیروز پور روڈ پر دیکھا ہے جب غریب مسافر میٹرو بس میں فراٹے بھرتے منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں تو کناروں کی سڑکوں پر لاکھوں قیمتی سے قیمتی کاریں ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے کھڑی ہوتی ہیں۔ اب یہ اشرافیہ کیوں پسند کرے گی کہ اس شہر میں اورنج ٹرین کا منصوبہ چلے اور غریبوں کو بھی مرسیڈیز جیسی سہولتیں ملیں۔
مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب عمران خان نے اسلام آباد میں مہینوں تک مسلسل دھرنا دیا، اس دھرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم اپنے طے شدہ اور معمول کے مطابق پاکستان کے دورے پر نہ آ سکیں۔ میں حیران و ششدر تھا کہ کیا کوئی پاکستانی لیڈر اپنے ملک اور اپنے عوام کے مفادات کے خلاف جنگ کر سکتا ہے۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ عمران خان کسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کر رہا ہے، اس شبہے کو تقویت اس وقت ملی جب کینیڈا کا ایک شہری ڈاکٹر طاہرالقادری بھی اس دھرنے میں آن شریک ہوا اور دونوں نے ملک کے دارالحکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ عمران خان کے لئے میرے دل میں ہمدردی کے جذبات مانچسٹر کے ایک ڈونر چودھری منظور احمد نے پیدا کئے تھے مگر اب گزشتہ روز ان کی گگو منڈی سے کال آئی کہ آپ نواز شریف کو نیلسن منڈیلا اور یاسر عرفات سے کیوں تشبیہ دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں عمران کو تو ان سے تشبیہہ دینے سے رہا کہ جس کا کردار میرے نزدیک مشکوک ہے۔ میں اپنا قومی فریضہ نبھا رہا ہوں اور آپ کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیئں۔ اور عمران کے اصل سازشی منصوبوں کی تہہ تک پہنچ جانا چاہئے۔ بیرون ملک سے پاکستانی اسے ضرور چندے دیتے ہیں لیکن نہ یہ صدقہ ہے، نہ زکوٰة اور خیرات ہے، یہ خنزیر اور شراب کی کمائی کا ایک حصہ ہے مگر اس کا بھی کوئی حساب کتاب عمران کے پاس نہیں۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ شریف فیملی بھی اپنی منی ٹریل پیش کرتی ہے یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ چندہ خور تنظیموں کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں ہوتی۔ وہ تو اسے مال مفت اور دل بے رحم کی طرح ہڑپ کر جاتی ہیں۔
یہی وہ عناصر ہیں جو دوسرے پاکستانی، قومی لیڈروں کو بھی ترقی اور فلاح کے کام نہیں کرنے دینا چاہتے، کبھی دھرنا۔ کبھی بلاکیڈ اور کبھی رٹ پٹیشنوں کا دھندا۔ دھرنے کی وجہ سے چینی صدر بروقت پاکستان نہ آ سکے یہی وجہ ہے کہ چین کی مدد سے جو منصوبے اس وقت زیر تکمیل ہیں، وہ تاخیر سے شروع ہوئے، اگر چینی صدر کو دھرنے کی وجہ سے نہ روکا جاتا تو شہباز شریف بجلی کی پیداوار کے بیسیوںمنصوبے اب تک مکمل کر چکے ہوتے اور عمران خان اینڈ کمپنی اگلے الیکشن میں خاک چاٹنے کی تیاری کر رہی ہوتی۔
اورنج ٹرین کے ساتھ بھی یہی ہوا، جدید ترین دور کا ترقی یافتہ منصوبہ درجنوں رٹ پیٹیشنوں کی بھینٹ چڑھ گیا، اب کون کہہ سکتا ہے کہ جب عدالتوں میں جنگ ختم ہو گی تب اس منصوبے کی کتنی لاگت زیادہ ہو چکی ہو گی، وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دنیا میں رواج ہے کہ حکومت اور حکومت کے مابین معاہدے میں بڈنگ نہیں ہوتی مگر انہوں نے چینیوں سے کہا کہ وہ شفافیت کے لئے بڈنگ ضروری سمجھتے ہیں۔ چینیوں نے ان کی ضد پوری کی اور جب بڈنگ ہو گئی تو اس کے بعد شہباز شریف پھر اڑ گئے کہ نہیں، مزید ڈسکاﺅنٹ کیا جائے، چینی حیران تھے کہ بڈنگ بھی نہیں ہو سکتی تھی مگر یہ ہو گئی، اوپر سے مزید ڈسکاﺅنٹ، چینی اس کے لئے بھی مان گئے اور یوں آپ نے وزیراعلیٰ کی زبان سے سن لیا کہ انہوں نے کتنے ارب کی بچت کروا لی۔ پاکستان کے مفادات کا اس قدر خیال رکھنے والا وزیراعلیٰ رٹ مافیا کے ہاتھوں مگر بے بس ہے اور اس نے کہہ دیا ہے کہ منصوبہ بر وقت مکمل نہیں ہو سکے گا تو اس کا دوش انہیں نہ دیا جائے بلکہ رٹ مافیا کو مطعون کیا جائے جو لاہور کے غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ کھلی دشمنی کر رہے ہیں۔ اور خونی انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے کارنامے، میں اکثر گنواتا رہتا ہوں، تازہ ترین عجوبہ یہ ہے کہ موٹرسائیکل ایمبولینس ٹیم تیار کی گئی ہے۔ یہ گیارہ بائیس سے بھی زیادہ انقلابی قدم ہے کیونکہ جس گلی میں گیارہ بائیس کی گاڑی نہیں گھس سکتی، وہاںموٹر سائیکل والا بر وقت پہنچ کر طبی امداد بھی فراہم کر سکتا ہے اور مریض کو بروقت ہسپتال تک بھی پہنچا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ کی جو اصل خوبی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صاحب الرائے ہیں۔ ان کے اپنے نظریات ہیں۔ وہ پارٹی ا ور اپنے بھائی کے وفادار بھی ہیں مگر ان کی بھلائی کے لئے یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکے کہ پارٹی صدر کو مشاورت کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے اور کرسی اور کار کی طلب رکھنے والوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہئے۔ یہی بات چودھری نثار بھی باالفاظ دگر کہہ چکے ہیں مگر دونوں راہنماﺅں کی پارٹی سے وفاداری شک وشبہے سے بالاتر ہے۔
شہباز شریف نے جس انتھک محنت سے بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں، ان کی داد خود نواز شریف بھی دیتے ہیں۔ بڑے بھائی کے پس پردہ قوت متحرکہ تو وہی ہیں اور انہیںمائنس نہیں کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کو اس وقت اپنے منہ سے اپنے کارنامے بیان کرنا پڑتے ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ وہ اپنی سیاسی ٹیم اور میڈیا کو متحرک کریں۔
شہباز شریف جیسے حکمران اور منتظم روز روز جنم نہیں لیتے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
میں بھی شعر و شاعری پر اتر آیا ہوں یہ شوق شہباز شریف کو بدرجہ اتم لاحق ہے مگر میں انہیںمشورہ دوں گا کہ یاس انگیز اشعار کا استعمال نہ کریں۔ ہزاروں ایسے اشعار ہیں جو امید کی روشنی دکھاتے ہیں اور خوش کن تصویر کشی کرتے ہیں۔ پاکستان اللہ کی نعمت ہے۔ یہ اس کی دین ہے، اسے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا اور تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی شیر شاہ سوری کو کوڑے دان میں پھینک سکا ہو۔ وہ ترقی کے آسمان کا چمکتا ستارہ تھا اور شہباز شریف اس سے زیادہ درخشندہ اور تابندہ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں