176

. . . . . آرمی چیف زندہ باد . . . . . . . .

. . . . . . . . . . . . . . . تحریر : محمد کوثر کوثر (ایڈوکیٹ)
میں مایوس ہوچکا تھا.مجھے شک نہیں بلکہ یقین تھا کہ ہم بقول قرآن عظیم الشان سورہ اعراب ” کہ ہم اسلام لاچکےہیں مگر مومن نہیں بن چکے. مطلب بقول آنجھانی کالاش سردار بچھارا خان کے "بُسلمان ہیں مسلمان نہیں”
آج ملک میں دھشت گردی, برما کے دل ہلادینے والے مناظر ,آفغانوں کی قتل عام , عربوں کی پستیوں کے بارے میں سوچنے لگا کہ اے اللہ کیا ہم عقیدہ آخرت کے منکر ہیں? کیا ہم واقعی مسلمان ہیں?
عقیدت آخرت کیا ہے? وہ یہ کہ ھمیں ایک نہ ایک دن مرنا ہے اور پھر ہمیشگی کی زندگی میں کامیابی اور ناکامی کا سامنا کرنا ہے. دنیا میں مسلمان کی ذمہ داری صرف دو ہیں.پہلا یہ کہ ہر مسلمان کو داعی بننا ہے دوسرا یہ کہ دین اور مظلوم کا بزورشمشیر ساتھ دینا. مگر ملک اور ملت میں بےحسی اور ظالمانہ طرز عمل کو دیکھ کر میں یہ سوچنے لگا کہ شاید ہمیں تاریخ غلط پڑھایا گیا ہو.مجھے اس قول پر شک ہونے لگا کہ شاید یہ جملہ دشمنوں نے اڑایا ہو کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے”.مجھے لگنے لگا کہ اصل جملہ یہ ہوگا کہ "شیر کی ایک دن کی زندگی سے گیڈڑ کی سو سالہ زندگی بدرجہا بہتر ہے” کیونکہ شیر ایک دن دھاڑنے کے بعد مر جائے گا جبکہ گیڈڑ سو سال مزید لائف انجوائے کریگا مگر بعض شرارت پسندوں نے اسے الٹا کرکے ٹیپو سلطان کے ساتھ جوڑتے ہوئے مسلمانوں کو مروانے کےلیےجذباتی کرتے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے.اگر واقعی یہ سلطان ٹیپو کا قول ہے تو اسے کیا ملا? وہ تو خود کو شیر بناکے ایک دن دھاڑنے کے بعد چلا گیا مگر سو سال کیا بلکہ گذآشتہ دو سو سالوں سے زاید عرصہ اب بھی گیڈڑ ہم پر حکومت کررہے ہیں.اگر سلطان انگریز بہادر سے گٹھ جوڑ کرتے تو اس کی نسلیں اب بھی حکمران ہوتیں.
اسی طرح جب میں محمد بن قاسم کے بارے سوچتا ہوں تو مزید دکھ ہوتا ہے کہ وہ کتنا سادہ لڑکا تھا جو ایک عورت کی پکار پر دور سے سفر کرتے ہوئے سندھ آیا. کہتے ہیں نا کہ بچہ دوڑنا جانتا ہے مگر گرکر اٹھنا نہیں جانتا محمد بن قاسم بھی سترہ سال کا نوعمر لڑکا تھا اسے بھلا اچھے برے کی تمیز کہان تھی.بھلا اتنی دور سفر کرکے "دیبل” پر حملہ کرنے سے اسے کونسا ایوارڈ ملا.? الٹا کھال میں سی لیا گیا.
میں بے یقینی اور مایوسی سے سوچنے لگا طارق بن زیاد بھی بھولا انسان ہوگا کہ اپنے کشتیان جلاکر خوامخواہ ریاست کو معاشی نقصان پہنچا بیٹھا اگر وہ چاہتے تو انہی کشتیوں سے مچھلیان پکڑ کر ارب پتی بن سکتے تھے مثلا ایک کھشتی سے روزانہ 500کلو مچھلیان پکڑتے تو مہینے میں پندرہ ہزار مچھلیان فروخت کیے جاتے تو اگر ایک کلو 200 روپے میں بیچا جاتا تو مہینے میں تیس لاکھ روپے کمائے جاتے اور باقی ماندہ کھشتیوں کو ملانے سے مہینے میں اربوں روپے ریاست اور افواج کے اخراجات کے ساتھ ساتھ طارق بن زیاد بھی B.M.W میں گھوم رہا ہوتا.
میں سوچ رہاتھا کہ شاید اس "پسماندہ”دور میں لوگ کم تعلیمیافتہ تھے ورنہ درج بالا جنرلز کے پاس ہمارے ملک کے پالیسی سازوں جیسے "قابل” لوگ نہ ہونگے جو اُن کو "گیڈڑانا” طرز پہ پالیسی مرتب کرکے خود بھی اور اُن کو بھی کھلاتے.
مگر….آج آرمی چیف جنرل آصف باجوہ صاحب کا یوم دفاع کے سلسلے میں جو خطاب تھا نہ صرف میرے بلکہ پوری قوم کے لیے مایوسی کی تاریکی میں امید کی قندیل اور باد ثموم کے بیچ نسیم سحر کی ٹھنڈا جھونکا ثابت ہو رہا ہےا.یقیناً مسلمان کا جینا اور مرنا صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے تابع ہے.اس سے ہٹ کے جو بھی طریقہ کار ہوگا وہ باطل ہوگا.مسلمان قوم خصوصاً پاکستانی قوم کا عقیدہ بس یہی ہے کہ آخرت سنور جائے شہادت یا غازی بننا ہمارا نصب العین ہے مگر نیت کی صفائی لازم ہے.
. جنرل باجوہ صاحب نے کھلےعام قوم کے جذبات کی بہترین ترجمانی کی. حقیقتا ہماری تمام مال جان اولاد حتی کے عزت سے زیادہ پیارا صرف اور صرف "لاالہ الااللہ محمدالرسول اللہ "ہے.اس کلمے کی سربلندی کے لیے ہمیں لڑنا بھی ہے اور مرنا بھی اسے پڑھ کر مرنا ہے تو پھر ہم بےایمان کیوں مریں? یہ ایٹم بم ,یہ ہتھیار یہ ترقی ہمارے کس کام کے? جب جنگ بدر کے ننگے پیر سربکف 313 افراد 1000 سے زاید ہتھیاروں سے لیس فوج کے ساتھ صرف ایمان مجمل و ایمان مفصل سے لیس ہوکر لڑسکتے ہیں تو ہم 7 لاکھ کی جری فوج کے حامل ہیں تو ھمیں بھی اب اپنی عاقبت کے بارے سوچنا چاھئے.ھمیں ترقی کے دوڑ میں حصہ لینے کے بجائےآخرت کی کامیابی کے دوڑ میں شامل ہونا چاھِے.
. جنرل صاحب انتہائی متوازن اور مدبرانہ خطاب کیا.البتہ امریکہ سے ڈالر نہیں عزت اور اعتماد کی بحالی کا جملہ مجھے سمجھ نہیں آیا.امریکہ خدا تھوڑی ہے? ھم متحد ہوکے اگر امریکہ کو للکارینگے تو قسم سے دوسرے دن امریکہ ہمارا پاوں چومنا شروع کردیگا.عزت اور ذلت,زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں .ہمیں بس اسی ایک ذات بےہمتا کی خوشنودی کو مدنظر رکھنا ہے. …پاکستان زندہ باد پاک فوج پایندہ باد.

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں