85

قاری شبیر احمد مرحوم وجد أفرین قاری قرأن….تحریر۔۔مولانا محمد الیاس جیلانی

بعض شخصیات ایسی صفات خصوصیہ کا مجموعہ ہوتی ہیں کہ جنکی جاذبیت موافق و مخالف کو گرویدہ کٸے رکھتی ہے۔حضرت قاری شبیر احمد مرحوم کی شخصیت بھی انہی صفات کا خلاصہ تھی۔قاری شبیر احمد ماہ رواں کے اواٸل میں مسافران أخرت کے مرکب کا راکب بن گٸے۔اپنی خوبصورت پرسوز مسحور کن اور منفرد طرز تلاوت کے حوالے سے مشہور و معروف قاری مرحوم کو عوام و خواص بڑے ہی ذوق و شوق سے سنا کرتے تھے۔أپ ایک وجد أفرین قاری قرأن تھے۔اپکی شخصیت عظیم پر اثر اور پرکشش تھی۔خلق خدا کی انکے ساتھ عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ ہر کوٸی دل سے چاہتا تھا کہ میری خوشی و مسرت اور غم و الم کے لمحات سعید و کربناک میں ان کا گذر میری طرف ہو کیونکہ ایسے شخص کی زیارت عبادت میں داخل اور دلی سکون و اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔یقینا حضرت قاری مرحوم کا دل اسرار الہی کا گنجینہ اور انکا سینہ انوار لا متناہی کا خزینہ تھا۔انکے کلام میں زھد و تقوی تہذیب باطن اور تزکیہ نفس کا بیان ملتا تھا۔اپ نے دل عاشقانہ اور صادقانہ پایا تھا۔اپ کے دل میں امت کا غم اور جذبات کی گہراٸی تھی۔کیوں نہ ہو کہ اپ نے مایہ

ناز اور نابغہ روزگار علمی و روحانی شخصیت مولانا مستجاب المعروف ایونو مولانا کےہاں تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کیلٸے زانوٸے تلمذ تہ کرچکے تھے۔بعد ازاں دور حاضر کے دینی و دنیوی علوم کے حسین امتزاج کے حامل معروف روحانی شخصیت پیرکامل حضرت اقدس مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی سے سلسلہ نقشبندیہ میں مجاز بیعت تھے ۔پیر ہی کے حکم پر ہر جمعہ کو بعد نماز عصر ذکر و ازکار اور مراقبے کی محفل سجاتے تھے۔۔حضرت قاری مرحوم نرم و شفیق لہجہ حسن اخلاق ذندہ دلی اور دور اندیشی و داناٸی کے مرقع تھے۔انکا رہن سہن ملنا جلنا اٹھنا بیٹھنا بات چیت لب و لہجہ ہر زاوٸے سے کامل اور بے مثال ہوتاتھا۔اپ ایک خشک مزاج صوفی ہرگز نہیں تھے انکی ذندہ دلی اور بذلہ سنجی کا ایک زمانہ معترف ہے۔رب کاٸنات نے انہیں بے مثال حسن و جمال سے نواز رکھا تھا پرنور اور بارعب چہرہ کشادہ پیشانی اور اسپر کثرت سجود کا نشان سونے پہ گویا سہاگہ تھا لمبا قد مضبوط

اور فربہ جسم۔سر پہ سفید پگڑی۔جسم پر عربی لباس اور اسپر سفید عبا اور پاوں میں زردوزی کی کڑھاٸی سے مزین کافش اور ہاتھ میں پھولدار عصا لیکر رعب دار چال ڈھال اور کافش کی مخصوص لچکدار أواز کیساتھ جب بازار سے گذرتے تھے تو ہر کوٸی دم بخود ہوکر دیکھتا ہی رہ جاتاتھا۔انکے بدن کی تراش ہی ایسی تھی کہ شاید پھول بھی انہیں دیکھ کر اپنی قباٸیں کترا کترا کر دیکھ رہے ہوتے تھے۔اسبات میں کوٸی شک نہیں کہ قاری مرحوم چترال کا عظیم سرمایہ اور درنایاب تھے۔ورع و تقوی اور خلوص و للہیت کا پیکر پوری ذندگی مستحبات تک پر عمل پیرا رہے ۔سردی گرمی اور جاڑے کی پروا کٸے بغیر شاھی مسجد سے 3 میل دور جغور سے پیدل ہی نماز صبح کی امامت کیلٸے شاھی مسجد جانے کا معمول تھا۔صوم داودی پر سالہا سال سے کاربند تھے۔سیرت و صورت کے اس عظیم پیکر سے اہل چترال ہی نہیں انگریز تک متاثر تھے ۔ایک انگریز سیاح چترال کا دورہ کرنے کے

بعد اپنے تاثرات بیان کرتے ہوے بجا کہا ہے کہ میں نے ایشیا کی تمام مساجد اور منتظمین کو دیکھا ہے لیکن چترال کے شاھی مسجد کے پیش امام قاری شبیر احمد اور خطیب مولانا خلیق الزمان جیسا خوبصورت اور وجاھت سے بھرپور امام و خطیب نہیں دیکھا ۔ چشم فلک نے وہ نظارا دیکھا ہوگا کہ روح پرواز کرتے ہی حورو غلمان پھولوں کا سبدہ ہاتھوں میں اٹھاٸے انکا استقبال کٸے ہونگے۔اسی لٸے خطیب شاھی مسجد مولانا خلیق الزمان کہتے ہیں کہ حضرت کی وفات سے انکے گھر والوں کے بعد میں پہلا شخص ہوں جو اپنے عظیم روحانی باپ اور سرپرست سے محروم رہ گیا ہوں۔بحرحال حضرت قاری مرحوم کی رحلت سے اہل چترال ایک عظیم مصلح و مربی اور بہترین قاری قرأن سے محروم رہ گٸے۔ دعا ہیکہ رب ذوالجلال حضرت قاری مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام عطا فرماٸے اور پسماندگان خصوصا اپکی بیوہ محترمہ تین بچیوں بھاٸیوں بھتیجوں اور اپ کے مریدین کو صبر جمیل سے نوازے ۔

Facebook Comments