78

وادی تریچ اور تورکہو کے عوام حکومت سے مطالبہ۔۔۔بونی بوزند روڈ کو مطلوبہ معیار کے ساتھ بنائی جائے۔۔فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے چار ار سی سی پلوں پر کام رکے ہوئے ہیں۔۔عوام تورکہو و تریچ

چترال (نمائندہ آوازچترال ) وادی تورکھو اور تریچ کے عوام نے وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ 15سال پہلے شروع کی جانے والی بونی بزند روڈ کی تکمیل کو اس کی مطلوبہ معیار کے ساتھ یقینی بنائی جائے اور وفاقی حکومت اس پی ایس ڈی پی پراجیکٹ کے لئے فنڈز ریلیز میں مزید تاخیر نہ کرے۔ تورکھو شاگرام

کے موقع پر پریس فورم سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عمائیدیں وقاص احمد ایڈوکیٹ، محمد سید خان لال، عبدالقیوم بیگ، محمد ہاشم، شیر عزیز بیگ، حسین زرین، پنچشنبہ خان، قدر خان، سیف اللہ، احمد اللہ بیگ، مولانا عبدالغنی چمن، جلال الدین، منہاج الدین، شیرا فضل، بلبل دیان، اسرارالدین، اعظم خان، شاکر، ذاکر زخمی، اقبال مراد، شریف خان، عبدالوہاب اور دوسروں نے اس روڈ کو علاقے کے موت وحیات کا درجہ دیتے ہوئے کہاکہ تورکھو اور رتریچ کے وادیوں میں رہنے والے ڈیڑھ لاکھ انسان سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی کرب میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں جن کا موسم سرما میں ملک کے دیگر حصوں سے تعلق کٹ جاتا ہے۔ انہوں نے

اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ گزشتہ عام انتخابات میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اس علاقے میں سب سے ذیادہ مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود اس حکومت کی ترجیح میں یہ پراجیکٹ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس روڈ پراجیکٹ کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کے علاوہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی اور غفلت کا بھی سامنا ہے کیونکہ اس روڈ کے پہاڑی مقام شوچ میں پی سی ون میں سڑک کی چوڑائی کیلئے دی گئی 28فٹ کے بجائے صرف 15فٹ کی کھدائی کی گئی ہے جوکہ موسم سرما میں موت کا کنواں بن جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس پہاڑی میں مطلوبہ مقدار میں کھدائی سے پہلے ہی بلیک

ٹاپنگ کرکے محکمہ نے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے جبکہ پہاڑی مقام دغیڑی میں تو کشادگی کا کوئی کام بھی نہیں ہوا۔ عمائیدیں نے کہاکہ اس روڈ پر چار مقامات پر آر سی سی پل بھی شامل ہیں جن پر کام فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیاکہ وہ پراجیکٹ کے پی سی ون سے ایک فیصد بھی کم مقدار اور کوالٹی میں کام تسلیم نہیں کریں گے اور سراپا احتجاج ہوں گے۔ تورکھو کے عمائیدین نے موڑکھو تورکھو کی ہیڈ کوارٹرز اور ٹی ایم

اے آفس کو موڑکھو کے وریجون میں شفٹ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تورکھو اورتریچ کے تین یونین کونسلوں کے عوام کو یہ فیصلہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جن کو وریجون جانے آنے جانے کے لئے کم از کم پانچ ہزار روپے کرائے میں لگانے ہوں گے کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں انہیں حصوصی ٹیکسی لے کر جانا اور آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ تورکھو اور تریچ کو الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے اور اُس وقت تک ٹی ایم اے سمیت تمام تحصیل دفاتر کو تین دن تک بونی میں اور بقیہ تین دنوں کے لئے وریجون چلائے جائیں۔ انہوں نے قومی شناختی کارڈ اور رجسٹریشن کے حصول میں بونی کا

سفر کرنے کے مسائل کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہاکہ ڈیڑھ لاکھ آبادی کے لئے شاگرام کے مقام پر نادرا سنٹر کا ہونا لازمی ہے کیونکہ مڑپ، ریچ، کھوت، تریچ کے دور دراز علاقوں سے بونی جاتے ہوئے تین سے چار ہزار روپے خرچ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خواتین کے لئے یہ اور بھی تکلیف اور اذیت ناک بن جاتی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ شیخ رشید سے پرزور مطالبہ کیاکہ شاگرام کے مقام پر مستقل نادرا آفس کے قیام تک اس علاقے میں ہر ماہ ایک ہفتے کے لئے موبائل ٹیم بھیج دیا جائے۔ بجلی کی ترسیل کے سلسلے میں انہوں نے صوبائی محکمہ توانائی (پیڈو) کی بے حسی اور عدم توجہی کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اس علاقے میں ایستادہ بجلی کے کھمبوں کا 65فیصد حصہ لکڑی کے بنے ہوئے ہیں جوکہ صارفین نے خود لگائے تھے۔ انہوں نے کہاکہ 2015ء میں ریشن بجلی گھر کی

سیلاب بردگی کے بعد موڑکھو سے تورکھو تک بجلی کے ٹرانسمیشن لائن کے کیبل اکھڑ گئے تھے جنہیں تورکھو اور تریچ کے صارفین نے معمولی تار استعمال کرکے خود بحال کیا تھا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود پیڈو نے اصل کیبل نہیں لگائی جس سے کوئی بھی حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ تورکھو کے عمائیدین نے علاقے میں کھیلوں کا میدان نہ ہونے کی شکایت بھی پیش کردی اور کہاکہ کھیلوں کو فروع دینے کے حوالے سے اس حکومت کی بلند دعوے محض دعوے ثابت ہوئے کیونکہ شاگرام میں مفت زمین کی دستیابی کے باوجود اسپورٹس اسٹیڈیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی مختلف دیہات میں پلے گراونڈ فراہم کرکے نوجوان نسل کو خرافات میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش کی گئی۔محکمہ ایریگیشن پر شدید تنقیدکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس ڈیپارٹمنٹ کی نظر میں شائد تورکھو چترال کا

حصہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک ایک پائی بھی تورکھو میں خرچ نہیں کی ہے حالانکہ یہاں کی زرخیز زمینوں کو دریا کی کٹاؤ سے بچانے کے لئے متعدد مقامات پر حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور سینکڑوں ایکڑ ز بنجر زمین نہر کی تعمیر کے ذریعے زیر آب لائے جاسکتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف دیہات کے مسائل بھی سامنے آئے جن میں شاگرام اور رائین میں گرلز ہائی سکول کے نہ ہونے کی وجہ سے مڈل کے بعد طالبات کا تعلیم کاسلسلہ منقطع کرنا پڑتا ہے۔

مڑپ گاؤں کے سابق کونسلر قدر خان اور اسرار الدین نے1997ء میں بننے والی موبائل ڈسپنسری کی بندش کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ علاقے کے لوگوں کو ایک انجیکشن لگانے کے لئے بھی چار گھنٹہ پید ل چل کر شاگرام آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اودیر کے سو گھرانوں کیلئے سڑک کی سہولت کی فراہمی اور مڑپ کے مضافاتی گاؤں غوردا میں بجلی کی ترسیل کے لئے چار عدد کھمبے کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وادی کے مختلف دیہات ریچ،کھوت اور زوندرانگم کے بیسک

ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹر کی عدم موجود گی کی طرف بھی نشاندہی کی۔ تریچ وادی کے مسائل بیان کرتے ہوئے وادی کی سڑک کو زوندرانگم سے آگے شاگروم تک پراونشلائز کرکے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے تحویل دینے، بجلی کے پول فراہم کرنے اور احساس پروگرام سمیت دوسرے ریلیف کے سامان کو حقدار وں تک پہنچانے کا مطالبہ کیاجنہیں فی الحال سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں۔ ورکوپ کے اوپر پہاڑوں میں گھری ہوئی نیوک گاؤں کے لئے سڑک کی

تعمیر کا مطالبہ محمد سید خان لال نے پیش کیا جوکہ اب تک اس سہولت سے محروم ہیں۔ کھوت کے مسائل بیان کرتے ہوئے شیر عزیز بیگ نے مقامی بی ایچ یو کیلئے رابطہ سڑک کے نہ ہونے، مقامی گودام میں گندم کی عدم دستیابی اور 2009ء میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کی واٹر سپلائی اسکیم کی مکمل طور پر ناکامی کا بھی ذکر کیا جس سے ایک قطرہ پانی بھی اب تک حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر عمائیدین نے تورکھو روڈ میں کام پر خصوصی دلچسپی لینے اور کئی مرتبہ سائٹ کا دورہ کرنے پر ڈی سی اپر چترال محمد علی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ اداکیا۔

Facebook Comments