54

دھڑکنوں کی زبان……”ہماری غربت کی لکیریں“……محمدجاوید حیات

بے شک ہم ایک ترقی پذیر، غریب اور پسماندہ قوم ہیں۔ہم میں سے کچھ فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ہمارے بچے مزدوری کرنے پہ مجبور ہیں۔بیزورگاری کے ہاتھوں نوجوان بے بس ہیں۔لیکن بحیثیت قوم ہم نااہل بھی ضرور ہیں۔ہماری غربت،بیروزگاری،اور پسماندگی زندگی کا ایک المیہ نہیں ہے یہ ایک حد تک سیاسی نعرہ ہے۔۔المیہ وہ ہے کہ انسان زندگی کے ہاتھوں مجبور ہوجائے جینے کی اُمید تک ختم ہوجائے ایسا نہیں ہے ایک بے روزگار نوجوان اگر محنت کرئے تو زندگی کا دامن تنگ نہیں ہے ہم محنت کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔ہم”انحصار“کی لت میں گرفتار ہیں کسی خاندان میں ایک کماتا ہے باقی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں اگر ان کو غربت ستاتی تو مجبوراً کمانے باہر نکلتے۔اس کے علاوہ ہماری کئی اسائشیں یہ بتاتی ہیں کہ ہماری غربت کی لکیریں اتنی نیچی نہیں ہیں۔۔زندگی کی ضروریات لباس پوشاک اور خوردونوش کے علاوہ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون ہے بلکہ سمارٹ فون ہے یہ ایک دفعہ خریدا ہی نہیں جاتا اس میں بیلنس ڈالنا ہوتا ہے۔اکثروں کے پاس موٹر بائیک ہیں یہ خریدا ہی نہیں جاتا اس میں ایندھن ڈالنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ہر ایک کی اپنی فیشن اور زرق برق کپڑے ہیں۔ہر ایک صبح کم از کم دس بجے اُٹھتا ہے ہم جیسوں کو ان کو جگاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ کہیں ہمیں جھاٹ uncivilized نہ کہیں۔ہماری بنیادی ضروریات کے علاوہ ہماری اخراجات یہ بتاتی ہیں کہ ہماری غربت کی لیکر کوئی نہیں۔یہ فضول خرچیاں اگر کنٹرول کی جائیں تو غربت کی لیکر خود بخود مٹ جائے گی اس کا مطلب یہ نہیں کہ غربت نہیں ہے اس حد تک نہیں ہے جس طرح ہم اس کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ہماری عیدوں میں ہماری خریداریاں اس بات کے شاہد ہیں کہ ہم غربت کی لکیر کی یا تو پرواہ نہیں کرتے یا تو لکیر کوئی نہیں۔ہم مہنگائی کو بھی سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ہمارے پاس باہر ملکوں کی طرح ٹیکس کا نظام نہیں ہے برطانیہ میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ ماچس کی تیلی پہ بھی ٹیکس ہے۔ہفتہ وار تنخواہ ملتی ہے لوگ جمعہ کو تنخواہ لیتے ہیں ہفتہ اتوار ان کی چھٹیاں ہوتی ہیں تو وہ یہ دو دن کلب میں گزارتے ہیں کمائی کلب میں اُڑا دیتے ہیں اور پیر کو پھر قرض پہ گزارا کرنا پڑتا ہے ہم ان ممالک کو بطور”خواب نگر“ پیش کرتے ہیں اور اپنے اس ملک خداداد کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔وہ سچ بولتے ہیں سچا کام کرتے ہیں بدعنوانی کا تصور ان کے ہاں نہیں اس لیے انھوں نے ترقی کی ہے۔بلدیہ مضبوط،بنیادی سہولیات مہیا ہیں۔بجلی گیس ہسپتال اور تعلیم کا مسئلہ نہیں۔لیکن زندگی کا معیار جو ہم سمجھتے ہیں ان کے پاس نہیں۔ان میں سے شاید کسی کا اپنا گھر ہو شاید کسی کی جائیداد ہو مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم اس لحاظ سے ان سے آگے ہیں ہمارا المیہ ہماری نااہلی ہے جو صاحب ثروت ہیں اُنھوں نے زندگی کو اپنے لیے پیچیدہ سے پیچیدہ ترین بنا گئے ہیں جو بے روزگار ہیں وہ بیروزی سے نکلنے کی کوشش کرنے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ساتھ کرپشن نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے۔۔ ہم اپنی بساط کے مطابق کرپٹ ہیں۔ہمارا مطمع نظر ملک و قوم کی خدمت نہیں ہوتا خودغرضی ہوتاہے۔اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے ملک و قوم کی دولت لوٹتے ہیں۔اگر ہم قناعت کو زندگی کااصول بنائیں تو ساری فضول خرچیاں ختم ہو جائینگی۔اگر کوئی سمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا نہ خریدے اگر بائیک کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا تو بائیک نہ رکھے عید پر نیا کپڑا نہ بنا سکتا تو پرانے کپڑے اُجلا کر پہنے۔پرُانے کپڑے بھی صاف ستھرے کہلاتے ہیں۔لیکن ہم قناعت کی بجائے قرض پہ قرض چڑھاتے ہیں اور غربت کا رونا روتے ہیں دنیا کی محنتی قومیں خود انحصاری کے جذبے سے سرشار ہوتی ہیں۔وہ قناعت پسند ہوتی ہے۔ وہ معیار زندگی میں آپس میں مقابلہ نہیں کرتیں ایک دوسرے کے لیے اسانیاں پیدا کرنے میں مقابلہ کرتی ہیں۔ہم میں اگر محنت خود انحصاری اور ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ ہو اور قناعت ہمارا شعار ہو تو غربت مٹ جائیگی اشرافیے ان عیدوں میں جو اصراف کرتے ہیں ان میں اگر غریبوں کا حصہ رکھیں اپنے لیے دسیوں جوڑے بنانے کی بجائے ایک جوڑا بنا کر باقی ضرورت مندوں میں بانٹ دیں انواع و اقسام کے کھانوں کو سجانے کی بجائے غریبوں کا چولہا جلایں تو غربت کی لکیریں مٹ جائینگی۔ہم مہنگائی کو قوت خرید سے ناپتے ہیں ہماری قوت خرید ان فضول خرچیوں کی وجہ سے کم ہو رہی ہے اگر ہمارے ملک میں قانون سسٹم مضبوط ہوتا تو غربت کہیں نہیں یہ لکریں خیالی ہیں۔

Facebook Comments