50

پاکستان میں جمہوریت کبھی آزاد نہیں رہی،اس کے پائوں میں زنجیر پڑی ہوتی ہے

لاہور ۔ (آوازچترال رپورٹ )   ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے چاہے لولی لگڑی ہی کیوں نہ ہو ،کچھ ایسے ہی بیان اکثر اوقات سیاستدان دیتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ کئی بار اپوزیشن میں آنے والی سیاسی جماعتیں حکومتی پارٹی کو جمہوریت پر شب خون مارنے اور جمہوریت کے نام پر مسلط کی جانے والی سیاسی جماعت کا نام دیتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہی حال اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن کی نعرے بازی اور الزام تراشی کا بھی ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے آستینیں چڑھا رکھی ہیں جبکہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت میں زیادہ تر عہدیداران وہ لوگ ہیں جو آج سے پہلےپیپلز پارٹی میں تھے یا ن لیگ کی حکومت کا حصہ تھے اور وزارتوں اور سرکاری عہدوں سے لطف اٹھاتے رہے۔ اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل پر سینئر صحافی عارف نظامی نے پیپلز پارٹی کے راہنما مولا بخش چانڈیو سے سوال کیا کہ آپ مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے لتے لیتے نظر آتے ہیں جبکہ اس وقت کا وزیر خزانہ حفیظ شیخ آپ نے انہیں تحفہ دیا ہے۔ اس پر مولا بخش چانڈیو نے جواب دیا کہ میں انتہائی معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہمیں بہت سارے معالات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔جب بھی کوئی پارٹی حکومت میں آتی ہے تو انہیں کئی ایسے لوگ قبول کرنے پڑتے ہیں جن کا ان کی پارٹی سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتامگر انہیں مختلف ذرائع سے ملنے والی ڈکٹیشن پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں بھی وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب دیا گیا تھا اس کا ہماری پارٹی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اصل میں ہمارے ملک میں آنے والی جمہوری حکومتیں آزاد نہیں ہوتیں۔انہیں زنجیروں سے جکڑا گیا ہوتا ہے اور وہ مجبور ہوتی ہیں۔اگر آزاد بھی ہوں گی تو زیادہ آزاد نہیں ہوں گی ان کے پاﺅں میں یا پاﺅں کی کسی انگلی میں زنجیر ضرور ڈلی ہو گی۔لہٰذا جمہوری حکومتوں کو کئی ایسے فیصلے کرنا ہوتے ہیں جو ان کی پارٹی کے فیصلے ہی نہیں ہوتے۔کئی بار اہم معاملات اور ایشوز کو حل کرنے کے لیے سودے بازی کرنا پڑتی ہے اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے کئی باتیں مرضی کے خلاف بھی ماننا پڑتی ہیں۔ اب موجودہ حکومت نے خانہ بدوشوں کی فوج بھرتی کی اور انہیں اہم عہدں سے سے نواز رکھا ہے تو اس میں ان کی کوئی تو مجبوری رہی ہو گی۔

Facebook Comments