43

17اضلاع کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کا عندیہ

پشاور۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے 17 مختلف اضلاع کے دیہی علاقوں میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی(جائیکا) کے باہمی تعاون سے 589 کلومیٹر طویل مختلف سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی کیلئے سروے کرانے کا عندیہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے میں ضلع سوات کے مختلف دیہی علاقوں میں مختلف نوعیت کے 53 کلومیٹر طویل مختلف روڈ زاورپانچ پلوں کی تعمیر کیلئے بھی سروے عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جائیکا کی مدد سے مینگورہ میں ایگرکلچر ریسرچ سٹیشن کا قیام بھی ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے جائیکا کی ٹیم کو حکومت کی جانب سے مکمل مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے حکومت خیبرپختونخوا اور جائیکا مشن ٹیم کے درمیا ن وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فروری سے جائیکا ٹیم ان منصوبوں کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی جس کے بعد جون اور جولائی میں حکومتی سطح پرایگریمنٹ کیا جائے گا اور ستمبر میں اس پرباضابطہ عملی کام کوممکن بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات میں پھلوں اور سبزیوں کے روزگار کو ایک صنعت کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے جائیکا کی ٹیم کو چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور کہاکہ یہ منصوبہ زراعت کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ایکٹ میں ترامیم اور بورڈ کی تشکیل نو کے سلسلے میں سیکرٹری فنانس کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے مذکورہ ٹاسک کو دو مہینوں میں حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ آئی ٹی بورڈ کی مزید فعالیت اور مختلف محکموں کے ساتھ روابط میں تیزی لانے کیلئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کامران بنگش کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور اور اسلحہ لائسنس کی ذمہ داری بھی آئی ٹی بورڈ کو دینے کا عندیہ دیا ہے۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں کے پی آئی ٹی بورڈ کے نویں اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اجلاس سے پہلے آئی ٹی بورڈ حکام آپس میں میٹنگ کرلیا کریں تاکہ مسائل تیز رفتاری سے حل کئے جا سکیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخو ایوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام سے 8 ہزار لوگ استفادہ کر چکے ہیں اور اس پروگرام کو اب نئے ضم شدہ اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے ۔

Facebook Comments