130

مہنگائی اور عوام..پروفیسر یحییٰ خالد

حکومت کو آئے اب اتنے دن گزر چکے ہیں کہ عوام اپنے کئے پر خوش یا پشیمان ہو سکیں۔ویسے تو حکومت کا بیانیہ یہی ہے کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے ۔ اس لئے کہ گذشہ حکومتوں نے کافی گند مچایا ہوا ہے اور اس گند کو ختم کرنے کیلئے ابھی ان کو وقت درکار ہے‘ہم سمجھتے ہیں کہ عوام اپنے نمائندے اس لئے چنتے ہیں کہ وہ ان کو ریلیف پہنچانے کے لئے کام کریں اور یہ کام وہ اسمبلی میں بحث کر کے ہی پہنچا سکتے ہیں‘ اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ اسمبلی میں اراکین اور وزیر حضرات بمعہ وزیراعظم حاضری یقینی بنائیں اور عوام کے معاملات کی بہتری کیلئے بحث مباحثہ کرکے مستقل حل نکالیں ‘مگر بدقسمتی سے وزراء اور وزیراعظم نے ابھی تک اسمبلی کو وہ اہمیت ہی نہیں دی کہ جس کیلئے ان کو بھیجا گیا ہے‘ ابھی تک کوئی بھی کام جو ہوا ہے وہ اسمبلی کو بائی پاس کر کے کیاگیاہے۔ بجلی ‘تیل اور دیگر اشیاء کی مہنگائی کو اسمبلی میں نہیں لایاگیا‘ بغیر کسی مشورے بجلی اور دیگر اشیا ء کو مہنگا کر دیا گیا ہے بغیر یہ دیکھے کہ اس کا عوام کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا‘ ہم ہمیشہ یہی سنتے آ رہے ہیں کہ جب بھی کوئی چیز مہنگی کی جاتی ہے توایک گھسا پٹا فقرہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اس مہنگائی کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘ ہم ابھی تک اس عام آدمی کی تلاش میں ہیں کہ جس پر مہنگائی کا اثر نہیں پڑتا‘مگر ہمیں ہمیشہ ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہاں ایک عام آدمی ضرو ر ایسا ملا کہ جس پر واقعی مہنگائی کیا کسی بھی چیز کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ ہے وہ آدمی جوننگ دھڑنگ گلیوں بازاروں میں نعرے لگاتا پھرتا ہے‘وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جسے نہ کپڑے لتے کی پرواہ ہوتی ہے نہ کسی کھانے پینے کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ کسی حکومت کی کوئی پرواہ ہوتی ہے‘ہاں اگرسارے لوگ اسی ڈگر پر چل نکلے تو پھر ہمارے وزیر خزانہ کی حکمت عملیوں کاان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اگر ان میں ہوش وحواس کی موجودگی ہے اور پیٹ بھی ان کیساتھ ہے توپھر ضرور اس پر اثر پڑے گا۔ ہماری حکومت کا یہ بنیادی نعرہ تھا کہ وہ عوام کو نوکریاں اور چھتیں مہیا کرے گی اور اسکی ابتدا اس نے کراچی سے کردی ہے‘ابھی تک ہزاروں دکانیں ‘پتھارے اور گھر کراچی ‘لاہور اور دیگر شہروں میں تجاوزات کے نام پرزمین بوس کر دیئے گئے ہیں۔ یہ دکانیں اور پتھارے ہزاروں خاندانوں کی کفالت کر رہے تھے اور مکانات نے ہزاروں خاندانوں کا سر ڈھانپ رکھاتھا‘اب وہ ہزاروں خاندان بھوک ا ور ننگ کے حوالے کر دیئے گئے ہیں‘ہو سکتا ہے کہ اس طرح شہروں کا حسن لوٹ آیا ہو مگر ایک دنیا کو تباہ کر کے جو حسن ملے اس پر توچار حرف ہی بھیجنے چاہئیں‘ہم نہیں سمجھ سکتے کہ وہ ہزاروں لوگ جو پہلے ہی کارخانوں کی آگ نے بھوک کے حوالے کر دیئے تھے انکے ساتھ یہ نیکی کس اللہ کے بندے نے کی ہے‘اب وہ ہزاروں نوجوان اور خاندانوں کے سربراہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کو کہاں جائیں گے‘اس بے روزگاری کی ایک چھوٹی سی مثال سامنے آئی ہے کہ ایک سے پانچ گریڈ کی پانچ سو آسامیوں کیلئے دس ہزارسے زیادہ لوگوں نے درخواستیں دیں جن میں اکثر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تھے اور اسی جم غفیر کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا‘جس شہر میں دس ہزار سے زیادہ بے روزگار نوجوان ہوں گے اسکے مستقبل کا سوچ کر ہی ہول اٹھتا ہے۔یہ نوجوان جن کو روزگار نہیں مل رہا کیا کریں گے۔ مزدوریوں کے اڈے بھی شہر کے حسن نے چھین لئے ہیں ‘گھروں کی چھتیں بھی حسن کے حوالے ہو گئی ہیں ‘جو روزگار کے ذرائع تھے وہ چھین لئے گئے ہیں تو اسکے بعد یہ لوگ کیا کریں گے‘کیا اسکے نتیجے میں کراچی کے علاوہ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں ڈکیتی کی وارداتیں بہت زیادہ نہیں ہو گئیں ؟ کیا اب سب شہروں میں کارخانوں اور دیگر آمدن کے ذرائع کو نذر آتش نہیں کیا جا رہا؟یہ سب کیوں ہے اسلئے کہ وزیر خزانہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر اسمبلی میں بحث کئے اشیائے صرف پر ڈنڈا پھیر رہے ہیں اور انسانوں کی بجائے شہروں کے حسن کا سوچا جا رہا ہے‘اور اب آبادی کے اضافے پر بھی شور مچ گیا ہے ورنہ یہ تین کروڑ آبادی کا ملک اکیس کروڑ کو پہنچ کر بھی کبھی بھوکا ننگا نہیں رہا تھا مگر جب آپ ذرائع آمدن کو شہروں کے حسن پر قربان کریں گے اور چھت او رروزگار دینے کی بجائے چھینیں گے تو ہنگامہ تو ہو گا۔

Facebook Comments