58

عدالتی احکامات نہ ماننے والے افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے کہاہے کہ عدالتی احکامات پرعملدرآمد نہ کرنے والے سرکاری افسروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی کیونکہ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے باعث سرکار کے خلاف مقدمات کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے اور اگر سرکار پشاور ہائی کورٹ کے کسی فیصلے سے مطمئن نہیں تو اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی جاسکتی مگریہ کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گاکہ عدالت ایک حکم جاری کرتی ہے اورسرکاری افسراس کی تشریخ کچھ اورکرتے ہیں۔
فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز توہین عدالت کی مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دئیے دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل جنرل خیبرپختونخواعبداللطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ پشاورہائی کورٹ کے احکامات پر من وعن عملدرآمد کیاجارہا ہے اوراس حوالے سے تمام انتظامی سیکرٹریوں کوخصوصی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجاسکے دورکنی بنچ جسٹس قیصررشید اور جسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل تھاجنہوں نے مختلف محکموں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر جسٹس قیصررشید نے کہاکہ عدالتوں کے احکامات نہ ماننے کے باعث روزانہ کی بنیادپردرجنوں کی تعداد میں مقدمات عدالتوں میں آرہے ہیں اوراس سے عدالتوں پربوجھ میں اضافے کے ساتھ ساتھ وقت کاضیاع بھی ہورہا ہے اس لئے اگران احکامات کونظراندازکیاگیاتو سخت احکامات جاری کئے جائیں گے۔
تاکہ آئندہ کسی بھی افسرکے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکے اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل عبداللطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایاکہ پشاورہائی کورٹ کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق متعدد مرتبہ حکومتی اداروں کو آگاہ کیاجاچکاہے اورایڈوکیٹ جنرل آفس اس حوالے سے اپناکردارادا کررہا ہے تاہم جن اداروں کے حوالے سے یہ شکایات ہیں انہیں دوبارہ مراسلے جاری کئے جائیں گے تاکہ آئندہ اس قسم کی صورتحال پیدانہ ہوانہوں نے اس حوالے سے عدالت کویقین دلایاکہ ایسے افسروں کے خلاف حکومت بھی کارروائی کرے گی جن کے خلاف عدالت کو شکایات ہوں یاوہ عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کریں بعدازاں عدالت نے مختلف درخواستوں پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔

Facebook Comments