53

ملک بھر میں 650سکول فعال نہ ہو سکے

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔قبائلی اضلاع میں وفاقی اورصوبائی محکموں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے ساڑھے چھ سو تعلیمی ادارے متعلقہ عملہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی سال بعدبھی فعال نہ ہونے کا انکشاف ہواہے متعلقہ اداروں کی عمارتیں خستہ حالی کاشکار ہونے لگی ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ عمارتو ں کو تعمیر ہوئے تین سے آٹھ سال تک کاعرصہ ہوچکاہے ۔
مگر کئی سال بعدبھی متعلقہ عملہ کے لیے پوسٹو ں کی منظور ی نہیں ہوسکی ہے ان تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ تعد ادپرائمر ی سکولو ں کی ہے کل 357پرائمری سکولوں کی عمارتیں سٹاف نہ ہونے وجہ سے خالی پڑی ہوئی ہیں اسی طرح 224مڈل ،53ہائی جبکہ چار ہائیر سیکنڈری سکول بھی عملہ نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں دو ڈگر ی کالچ اور تین ماڈل سکول بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ان سکولوں کے لیے کل 3716افراد پر مشتمل عملہ کی ضرورت ہے جن میں سے 330تعلیمی اداروں کے لیے درکار 1815افراد پرمشتمل عملہ کی پوسٹوں کی منظور ی صوبہ کے بعدوزارت سیفران نے بھی دے رکھی ہے مگر فائل عرصہ دراز سے وفاقی وزارت خزانہ میں دبی ہوئی ہے تاہم باقی ماندہ اداروں کے لیے پوسٹوں کی منظوری کا عمل تاحال صوبہ اور سیفران کے درمیان گردش کررہاہے ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں انضمام کے بعد صوبائی حکومت نے خالی آسامیوں کے حوالہ رپورٹ طلب کرلی ہے تاکہ ان پر بھرتی کاعمل شروع کیاجاسکے ۔

Facebook Comments