51

خیبرپختونخوا میں سرکاری محکموں کیخلاف کرپشن کی تحقیقات

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے خیبرپختونخوا میں سرکاری محکموں کیخلاف کرپشن کے الزامات کی بناء پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے کرپشن کے حوالے سے نادرا سر فہرست ہے ٗ دوسرے نمبر پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) ، تیسرے نمبر پر سوئی گیس، چوتھے نمبر پر محکمہ ڈاک اور چوتھے نمبر ایف آئی اے کا اپنا ادارہ ہے ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس وقت ایف آئی اے انٹی کرپشن میں مختلف سرکاری محکموں کیخلاف کرپشن کے 59 کیسزکی تحقیقات جاری ہے سرکاری محکموں کے خلاف مجموعی طور پر 13 مقدمات درج ہے ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ نادرا کرپشن کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے جس کے 10 سے زائد اہلکاروں پرغیر قانونی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام ہے۔
جنہوں نے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرکے لاکھوں روپے بٹورے زرائع نے بتایا کہ نادار اہلکاروں کے خلاف 4 مقدمات درج ہے اور 7انکوائریاں جاری ہیں، اس کے علاوہ دوسرے کرپٹ محکمے کا اعزاز پیسکو کو حاصل ہے جس کے اہلکاروں پر50لاکھ روپے سے زائد کا سامان چوری کرنے کاالزام ہے، پیسکو اہلکاروں پر 2مقدمات درج اور5کیسز کی تحقیقات جاری ہے۔
اسی طرح محکمہ سوئی گیس کے اہلکاروں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے جس کے اہلکاروں نے گیس چوری میں مدد فراہم کی اور رشوت لی جن کے خلاف ایک مقدمہ درج اور3کی تحقیقات جاری ہے ، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ ڈاک کے 7 اہلکاروں نے پنشن فنڈ میں7کروڑ سے زائد کی خرد برد کی جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایف آئی اے کی جانب سے اپنے محکمے کے خلاف بھی کرپشن کے 3 کیسز کی انکوائری جاری ہے۔

Facebook Comments