74

زرداری اور اومنی گروپ کی جائیدادیں منجمد کرنیکی سفارش

کراچی۔(آوازچترال رپورٹ)منی لانڈرنگ کیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی)نے آصف علی زرداری، فریال تالپور، زرداری گروپ اور اومنی گروپ کی جائیدادیں منجمد کرنے کی سفارشات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں۔منی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بلاول ہاس کراچی، لاہور اور زرداری ہاس اسلام آباد کی رہائش گاہیں منجمد کرنے کی سفارش کر دی ہے جب کہ سابق صد آصف علی زرداری کی نیویارک اور دبئی کی جائیدادیں بھی منجمد کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔رپورٹ میں بلاول ہاؤس کراچی کے پانچوں پلاٹس منجمد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
جب کہ آصف علی زرداری، فریال تالپور اور زرداری گروپ کی تمام شہری اور زرعی اراضی بھی منجمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق زرداری گروپ اور اومنی گروپ نے قرضوں اور حکومتی فنڈز میں بے ضابطگیاں کیں اور کمیشن لیا جب کہ دونوں گروپس نیغیر قانونی پیسہ حوالہ، ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا۔جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ زرداری اوراومنی گروپ کے مختلف کمپنیوں کے تحت رکھے گئے اثاثے منجمد کیے جائیں اور احتساب عدالت کے فیصلے تک ان اثاثوں کو منجمد رکھا جائے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ اثاثے بیرون ملک منتقل ہو جائیں۔
جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ایس ای سی پی کو زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کے ناموں کی تبدیلی سے روکنے کا حکم دیا جائے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے فرنٹ مین اقبال میمن کے ذریعے بے نامی کمپنی بنائی تھی جسے 1998 میں منجمد کر دیا گیا تھا جب کہ بے نامی کمپنی 2008 میں آصف علی زرداری کو ڈاکٹر ڈین شاہ کے ذریعے واپس کی گئی۔

Facebook Comments