44

داد بیداد … ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی … سیاست کے سنجیدہ مسائل

خبروں میں بار بار آتا ہے کہ اسمبلی کے اندر ہنگامہ ہوا ایک صو بے کے وزیر اعلیٰ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا دوسرے صو بے میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاری شروع کی گئی دونوں صو بوں کی سیا سی بے چینی وفاق میں بھی رنگ لائیگی ایک طرف سے پھٹے ہوئے ڈھول کی آواز کا ذکر ہو رہا ہے دوسری طرف سے جیل اور کا ل کوٹھڑیوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اس شور شرابے میں انگریزی کا مقولہ یا د آرہا ہے جو سیا ست کے بارے میں نہیں فوج کے بارے میں ہے تاہم اس میں تھوڑا سا تصرّف کر کے اس کا رخ سیا ست کی طرف موڑ ا جا سکتا ہے نیا مقولہ یوں ہوگا ’’سیا ست ایک سنجیدہ معا ملہ ہے اس کو سیا ستدانوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ‘‘ وطن عزیز پاکستان میں 1949ء سے جو کھیل جاری ہے اس کھیل کے سارے کھلاڑی غیر سنجیدہ سیا ست دان ہیں انہی کی وجہ سے 9سال بیورو کریسی نے حکومت چلائی 34سال فوج نے حکومت کی جو 27سال سیاستدانوں کو ملے وہ آپس کی دشمنی میں صرف ہوئے سیاست 3چیزوں کا نام تھا ،فراست ، دیا نت اور سفارت کاری، ہمارے ہاں سیاست سے مراد صرف ایک کام ہے اپنا اُلّو سیدھا کرو اس کے لئے مخا لف سے دشمنی کرو، ملک کو داؤ پر لگاؤ اور اگلے الیکشن کے لئے پیسے کماؤ اٹلی کا سابق ڈکٹیٹر مسولینی فاشزم یا فسطائیت کے لئے بد نام ہے روس کا سٹا لن اپنے ظلم اورجبر کی وجہ سے بد نام ہوا، مگر ہمارے ہاں ہر فاشسِٹ کو مد بّر کا نام دیا گیا سیاستدان کہا گیا فاشزم کی تعریف یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ذات کو سب سے بر تر خیال کر کے دوسروں کو کیڑے مکوڑے تصوّر کرے گا ہما را ہر لیڈر فاشسٹ ہے ایوب خان نے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کا نام دیا اس کا کوئی فو جی جواز نہیں تھا فیلڈ مار شل کا خطاب حاصل کرکے انہوں نے قائد اعظم کی بہن مادر ملّت محترم فاطمہ جناح کو غدّار قرار دیا ، اُس پر ملک دشمن کا لیبل چسپان کیا ذاتی مفاد کے لئے سیاست اور سیاست میں ذاتی دشمنی کی یہ ایسی مثال تھی جس کی تقلید آج تک ہورہی ہے یہاں تک کہ ہمارے ہاں سیاست کو ذاتی دشمنی سے الگ کرنے کی روایت ہی ختم ہو گئی ہے بر طانوی تاریخ میں وزیر اعظم چر چل کے کئی اقوال مشہور ہیں ایک باراُن سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر تمہیں گالیاں دیتا ہے تم اس کو جواب نہیں دیتے اس کی کیا وجہ ہے ؟ چر چل نے کہا ’’ شاید میری تر بیت اپو زیشن لیڈر سے بہتر ہوئی تھی ‘‘ ہمارے حکمرانوں پر ایک خبط ، جنوں اور سودا ہمیشہ سوار رہتا ہے خبط، جنوں اور سودا یہ ہے کہ مخا لف کو مار دیا جائے ، قتل کر دیا جائے یا جیل میں ڈال کر اپنا راستہ صاف کیا جائے جنرل یحیےٰ نے مخا لف کو ختم کرنے کیلئے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے جنرل ضیا ء نے مخا لف کو مات دینے کے لئے قوم پرست اور فرقہ پرست پارٹیاں بنا کر سیاست میں تشد دکو متعا رف کرا یا جنرل مشرف نے مخا لف کو ختم کرنے کے لئے دوسرے حر بے استعمال کئے پھر این آر او کی تلوار سے تمام حر بوں کو کا ٹ کر رکھ دیا 1988سے 1999تک گیا رہ سا لوں میں مسلم لیگ اور پی پی پی نے ایک دوسرے کی دشمنی میں تمام اخلاقی حدوں کو پار کیا نتیجہ آج دونوں کے سامنے ہے اُن کے بعد جو لوگ سیاست میں آئے انہوں نے ما ضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا امریکی صدر رچرڈ نکسن واٹر گیٹ سکینڈل کی وجہ سے عہدہ صدارت سے ہاتھ دھو بیٹھا واٹر گیٹ بلڈنگ کا نام ہے اس بلڈنگ میں اپوزیشن کی جماعت کا دفتر تھا صدر نکسن نے ایک سر کاری ملا زم کو سرکاری ٹیپ ریکارڈ دیکر اُس بلڈنگ میں اپو زیشن کی میٹنگ میں بھیجا تھا تا کہ میٹنگ کی اندرونی کہا نی کو اپنے سیا سی مقاصد کے لئے استعمال کر سکے ایک سر کاری اہلکار اور ایک سر کاری ٹیپ سیا سی پارٹی کے لئے استعمال ہو ناجرم ٹھہرا نکسن جیسا طاقتور صدر اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھا پا کستان میں 10لاکھ سر کاری اہلکار وں اور کھربوں روپے کے سر کاری وسائل کو حکمران اپنے ذاتی دشمن سے بدلہ لینے کے لئے سر عام ، دِن دیہاڑے استعمال کر تے ہیں اس کو جرم بھی نہیں سمجھتے شا ید ہمارا قانون بے جان ہے یا ہمارا اجتماعی ضمیر مر دہ ہو چکا ہے سیا ست کو ذا تی دشمنی قرار دینے کے بعد ہمارے سیا ستدانوں کے سامنے ملک ، قوم ، ووٹر اور عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی ایجنڈا نہیں رہتا دشمنی اور انتقام ایسی چیز ہے جو سیاستدان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے ملکی مفاد ، قو می مفاد اور عوام کا مفاد اُن کو خوردبین کے ذریعے بھی نظر نہیں آتا پہلے حکمران اخبارات پڑھتے تھے فائلیں دیکھتے تھے اب وہ رواج بھی ختم ہو گیا ہے بھٹو شہید ہر خط کا جواب دیتے تھے اور نیلی سیا ہی سے دستخط کرکے بھیجتے تھے اب حکومت اور عوام کے درمیاں کوئی رابطہ نہیں رہا ٹوئیٹر ،فیس بک کے صارفین بڑے شہروں میں رہتے ہیں یا ملک سے باہر مقیم ہیں ان کو نہ مسا ئل کا پتہ ہے نہ اداب اور القا ب کی خبر ہے آج خبریں پڑھ کر ، ٹی وی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ چند دنوں میں سندھ حکومت کے خلاف اپریشن ’’ مڈ نائٹ جیکا ل ‘‘ شروع ہو گا یا پنجاب حکومت کے خلاف اپریشن ’’ ڈے لائٹ رابری ‘‘ کا آغاز کیا جائے گا چند دنوں میں کراچی پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے گا وزیر ستان پر ایک اور حملہ ہو گا دل چاہتا ہے کہ بندہ دو چار مہینوں کے لئے ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات سے دور کسی جنگل میں جا کر وقت گزارے تا کہ سیا ستدانوں کے بیا نا ت سے چھٹکا را ملے ذہنی دباؤ کم ہو اور سکون وا طمینان کی دولت نصیب ہو مگر یہ دولت ہمارے نصیب میں نہیں کسی نے سچ کہا سیاست سنجیدہ مو ضوع ہے اسے سیاست دانوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا

Facebook Comments