57

وعدے آسمان سے تارے توڑنے کے تھے ، عملی طور پر عوام صاف پانی سے بھی محروم رہے ۔ حکومت قوم کی تعمیر کی بجائے اپنے مخالفین کو دفن کرنے میں لگ گئی ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق

لاہور(آوازچترال نیوز) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ بلاامتیاز احتساب کا وعدہ خواب کی شکل اختیار کر گیاہے ۔ وعدے آسمان سے تارے توڑنے کے تھے ، عملی طور پر عوام صاف پانی سے بھی محروم رہے ۔ حکومت قوم کی تعمیر کی بجائے اپنے مخالفین کو دفن کرنے میں لگ گئی ۔ 2018 ء میں حکومت کا وعدوں سے آگے سفر شروع نہیں ہوسکا ۔حکومت منی بجٹ لانے اور ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کی سوچ چھوڑ دے۔ امید ہے کہ حکومت 2019 ء کو سابقہ وعدوں کی تکمیل کا سال بنائے گی اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کی طرف قدم بڑھائے گی ۔ قوم سب کا احتساب چاہتی ہے ۔ احتساب کو موثر اور بااعتماد بنانے کے لیے پانامہ کے دیگر ملزموں کے خلاف بھی فوری کاروائی کی ضرورت ہے ۔ حکومت سے عوام نے جو امیدیں اور توقعات باندھ رکھی تھیں انہیں آرزوؤں میں نہیں بدلنا چاہیے اور 2019 ء کو ان امیدوں کو پورا کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا سال بنا ناچاہیے ۔
دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے بنگلہ دیش میں انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کے قتل کے خلاف منصورہ میں دی جانے والی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کے نام پربدترین آمریت مسلط ہے ۔ بے گناہ مسلمانوں کو صرف اس جرم میں شہید کیا جارہاہے کہ وہ ہندوستان کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ انتخابات کے ڈرامے سے صرف ہندوستانی مفادات کی حفاظت کی جارہی ہے ۔ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں لوگو ں کے قتل عام اور سینکڑوں کو زخمی کیے جانے پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی قابل مذمت ہے ۔ مغرب اور یورپ میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ پر تو بات ہوتی ہے مگر بنگلہ دیش اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں جاری مسلمانوں کے قتل عام کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ۔
سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ عالمی ادارے مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ہونے والے ظلم و جبر پر صرف اس لیے خاموش ہیں کہ مسلمان اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں موجود انڈین لابی نے اپنے تمام مخالفین کے خلاف ظلم و جبر کا میدان گرم کر رکھا ۔ سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو شہید اور ہزاروں کو پکڑ کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیاہے مگر اس کے باوجود ان کی آتش انتقام ٹھنڈی نہیں ہورہی ۔ حسینہ واجد بھارت کو خوش کرنے کے لیے چن چن کر مخالفین کو قتل کروا رہی ہے ۔ عالم اسلام کو بنگلہ دیش میں جاری اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔
جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس اور شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک بھی موجود تھے ۔

Facebook Comments