51

اقرار الدین خسرو ….آہ انور استاد ۔۔۔ 

اطلاعات کے مطابق دروش کے نامور علمی ادبی شخصیت استاذ انور الدین انور صاحب بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے ۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔
انور استاذ سے پہلی ملاقات 22 سال پہلے ہوئی تھی ۔ ہمارے میٹرک امتحان میں ڈپٹی سپرٹنڈنٹ تھے ۔ دو ادبی شخصیات انور استاذ اور جاوید حیات استاذ کی ڈیوٹی لگی تھی ۔ ہم امتحان دے رہے تھے۔ اس کے بعد ملازت کے سلسلے میں دروش آنے کے بعد انور استاذ سے ملاقاتیں اکثر ہونی لگیں۔ انجمن ترقی کھوار حلقہ دروش کے پروگراموں میں انور استاذ جب بھی آجاتے تو بس چھا جاتے۔ خصوصاً میٹنگ کے دوران جب چندے کی بات ہوتی تو سلیم کامل صاحب کہتے میں انور استاذ سے زیادہ چندہ دونگا تو انور استاذ سلیم صاحب سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ۔ مشاعرے میں جب سلیم صاحب سے پہلے تاثرات بیان کرتے تو سلیم صاحب پہ قدغن لگاتے کہ میری باتیں کاپی نہیں کرنا۔ انتہائی سادہ مزاج کے پرخلوص اور محبت کرنے والے انسان اور ہر محفل کی شان تھے۔ حلقہ دروش کے اکثر اراکین انور استاذ کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے۔ انور استاذ نے مختصر زندگی میں ہی بہت نام اور مقام کمایا تھا۔ امسال کھوار اہل قلم کی طرف سے انور استاذ کو ادبی ایوارڈ 2018 کیلیے ہم نے منتخب کیا تھا۔ اس سلسلے میں جب میں نے اس سے بات کی تو بہت زیادہ خوش ہوے۔ مگر بیماری کی وجہ سے خود تشریف نہ لا سکے ۔ اشتیاق الہامی کے ہاتھوں ایوراڈ جب اس تک پہنچادی گئی ۔ تو شکرئے کیلیے دو مرتبہ فون کیا۔ کافی تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ حلقہ دروش کی غیر فعالیت کا شکوہ کرتے ہوئے کہا۔ کہ بیماری کی وجہ سے چترال نہیں آسکتے ۔ دروش میں پروگرامات نہیں ہوتے ۔ اب صرف ادبی دوست ہی ایسے ہیں جن کی محفلوں میں بیٹھ کر دل تنگی اور بوریت دور ہو جاتی ہے۔ کھوار زبان و ادب اور زبان و ادب سے وابستہ لوگوں سے بے لوث محبت کرنے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے انور استاذ کی اگلے تمام منزلیں اس کیلیے آسان فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین
انور استاذ نے دو کتابیں یادگار چھوڑی ہیں۔
خیالو سفر اور افکار انور
بوغاک تمنو کیہ کوم ۔۔ خالی زمانو کیہ کوم
مہ آباد ای خور جہان ۔۔ شار ہیہ فتنو کیہ کوم
کہ ہوئے انور خودی زنگار
چھوچھو ای آنو کیہ کوم

Facebook Comments