53

وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں سہولیات کیلئے ڈیڈ لائن دیدی

پشاور ( آوازچترال رپورٹ) ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام پرائمری اور سیکنڈری لیول ہسپتالوں میں چار ہفتوں کے اندر اندر ڈاکٹروں کی حاضری ، ادویات کی مفت فراہمی ، دیگر سٹاف اور صحت سے جڑی دوسری سہولیات کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے ۔ تمام اضلاع میں (ڈی ایچ کیو)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، تحصیل ہیڈ کوار ٹر ہسپتال، رورل ہیلتھ سنٹرز اور بیسک ہیلتھ یونٹس کی اپ گریڈیشن کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر صحت ہشام انعام اﷲ، وزیرا طلاعات شوکت یوسفزئی ، چیف سیکر ٹری نوید کامران بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، سیکرٹری صحت ، ڈی جی ہیلتھ سروسز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی مفت فراہمی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔ ان ہسپتالوں میں مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کے مسائل کو بھی فور ی طور پر حل کیا جائے ۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت علاج معالجے کی بہتر سہولیات کیلئے وسائل فراہم کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت تمام ہسپتالوں میں فنڈز کا اجراء جلد ازجلدممکن بنایا جائے گا ۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ محکمہ صحت میں نچلی سطح پر مسائل کو حل کیا جائے اورمقامی سطح پر بھی بی ایچ یوز کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو صحیح معنوں میں صحت کی سہولیات میسر آئیں ۔
اُنہوں نے مزید کہاکہ ڈی ایچ کیوز اور آر ایچ سی جیسے چھوٹے چھوٹے ہسپتالوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں شامل ہونے والے سات نئے اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی توسیع کا عمل فوری طورپر شروع کرنے سمیت ان اضلاع کیلئے 6 مہینوں میں نیشنل ہیلتھ ریفارمز پیکج کی منظوری دی ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو صحت کے شعبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی ۔
وزیراعلیٰ نے صحت انصاف کارڈکو 24 ملین آبادی تک توسیع دینے کی منظوری دی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہیلتھ سٹرٹیجی ،ٹاسک فورس اور ایم ٹی آئی ایکٹ میں حقیقت پسندانہ اور عوام دوست ترمیم کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے آئندہ پانچ سال کے دوران 500 پرائمری ہیلتھ یونٹس رورل ایریا میں قائم کرنے اور ہر ضلع میں ڈی ایچ کیوز اور موجودہ ہسپتالوں کو بھی مزید اپ گریڈکرنے کے مجوزہ پلان سے بھی اتفاق کیا۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس وقت 50300 لیڈی ہیلتھ ورکرز صوبے میں صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں اور 90 فیصد ایمونائزیشن مکمل ہو چکی ہے ۔ ڈائریکٹوریٹ میں شکایات کے ازالے کا سیل کاقائم کیا جا چکا ہے ۔ ہسپتالوں کی بہتری اور ریفارمز کے تحت درجہ بندی کی گئی ہے جس میں پرائمری اور سیکنڈری لیول کے ہسپتالوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک صوبے میں 874 بی ایچ یوز اور 120 سکینڈری ہسپتالوں کو فعال بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب 100 روزہ پلان کے بعد ہمیں عملی اقدامات اُٹھانے ہیں جس میں سب سے پہلے صحت کے بنیادی نظام کو ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر بہتربنانا ہے اور اس کے لئے عملی منصوبہ بندی کرنی ہے ۔
اُنہوں نے کہاکہ جہاں پر بھی ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کی کمی ہے ،اُسے فوری طور پر پوراکیا جائے کیونکہ سرکاری ہسپتال غریب عوام کیلئے بنے ہیں اور ہم نے غریب عوام کو ہرسہولت مہیا کرنی ہے اور ہسپتالوں میں مفت دوائی کی سہولت کو ممکن بنایاجائے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیراعلیٰ نے 200 بی ایچ یوز ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے بی ایچ یوز میں 24 گھنٹے عوام کو سہولت میسرہوگی۔
ان بی ایچ یوز میں دو، دو یونٹس قائم کئے جائیں گے ۔ ہسپتالوں میں بائیومیٹرک اور کیمروں کے نظام کو بہتر مانیٹرنگ کیلئے متعارف کرایا گیا ہے ۔ ہسپتالوں میں بہتر آلات مہیا کئے گئے ہیں۔ہیومین ریسورس کو زیادہ کیا گیا ہے ۔ صحت کے شعبے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کو متعارف کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔ 4000 مزید لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھرتی کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔
بی ایچ یوز کو مزید وسعت دینے، مینجمنٹ اور مانیٹرنگ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ڈاکٹروں کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں سیاسی مداخلت برداشت نہ کی جائے تاکہ ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صحت انصاف کارڈ کی سہولت حقدار کو ملنی چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ڈاکٹروں کی پروفائلنگ کی جائے تاکہ اُنہیں ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں موزوں جگہوں یا علاقوں میں تعینات کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بہترمانیٹرنگ کیلئے ڈپٹی کمشنر زکو ڈسڑکٹ ہیلتھ کمیٹیوں میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو ہدایت کی کہ چار ہفتوں کے اندر تمام ہسپتالوں میں دوائی اور سٹاف کی موجودگی کو ممکن بنا یا جائے۔

Facebook Comments