64

مغرب کے ایجنڈے پر چلنے کی بجائے پاکستان اور عالم اسلام کو اپنے ایجنڈے پر چلنا ہوگا ۔ ..سینیٹر سرا ج الحق

لاہور(آوازچترال نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہمغرب کے ایجنڈے پر چلنے کی بجائے پاکستان اور عالم اسلام کو اپنے ایجنڈے پر چلنا ہوگا ۔ ہماری کامیابی مغربی ایجنڈے پر چلنے میں نہیں یہ تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان کا مسئلہ آبادی نہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ساٹھ فیصد سے زیادہ بنجر پڑی زمین کو زیر کاشت نہ لانا ہے ۔ حکومت وسائل کی منصفانہ تقسیم ، کرپشن کے خاتمہ اور بنجر زمین کو آباد کرانے کی طرف توجہ دے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ جن ممالک نے آبادی کم کی وہاں انفرادی اور اجتماعی سکون ختم ہو کر رہ گیاہے ۔فطرت کے نظام کو جس نے بھی ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی وہ خود ڈسٹرب اور پریشانیوں اور مسائل سے دوچار ہوا ۔ آباد ی کم کرنے والے ممالک آج آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ماں باپ کو مراعات دے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والے ملی مجلس شرعی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اہل علم نے شرکت کی جن میں مولانا عبدالمالک ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، حافظ عبدالغفار روپڑی ، ڈاکٹر محمد امین ، علامہ توقیر شاہ و دیگر شامل ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک جس نے بھی فطرت سے بغاوت کی وہ امن و سکون کی زندگی نہیں گزار سکا ۔ مغرب اور یورپ آبادی پر کنٹرول کو ترقی کا زینہ سمجھتے تھے لیکن آج انہوں نے آبادی بڑھانے کے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں اور بچوں والے والدین کو سرکاری گھروں سمیت مالی مراعات سے نوازا جارہاہے ۔ ہمارے ہاں بلوچستان کی آبادی سب سے کم اور پنجاب کی زیادہ ہے ۔ترقی و خوشحالی آبادی میں کمی سے ہوتی تو بلوچستان سب سے خوشحال اور پنجاب پسماندہ ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ اب ہمیں اپنی پسماندگی کے اصل اسباب کو دور کرنے لیے بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناناہوگا ۔ ملک میں لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنانے کی طرف فور ی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بنجر زمینوں کو آباد کرنے والے کسانوں اور کاشتکاروں کو نہ صرف زمین کی آباد کاری کے لیے مشینری ، کھادیں اور بیج مہیا کیے جائیں بلکہ آباد کی گئی زمین کسانوں کو الاٹ کر دی جائے ۔ حکومت اگر آج یہ اعلان کردے تو آئندہ سالوں میں ملک کی زرعی پیداواردو گنا ہوسکتی ہے اور آبادی کا شہروں کی طرف رجحان بھی ختم ہوسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس اور وزیراعظم کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ قابل ستائش ہے اس کی جلد از جلد تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ احتساب کے عمل کو تیز اور وسیع کیا جائے اور اندرون و بیرون ملک پڑی چوری کی دولت واپس لانے کی طرف توجہ دی جائے ۔

Facebook Comments