58

آئس اور برباد نسلیں۔۔(حقیقت) تحریر۔عبداللہ شاہ بغدادی

لفظ  کاایک اردو ترجمہ ’’چستی پیداکرنے والی دوا ‘‘ہے۔ اس کا دوسرا نام آئس ہے۔اس کے علاوہ بھی اس کے کئی ایک نام ہیں جیسے شیشہ ،کرسٹل، میتھ، کرینکی ،اور کریس ٹینا وغیرہ۔یہ کوکین کی طر ح کسی پودے یا درخت یا پھر جڑی بوٹی سے نہیں بنائی جاتی بلکہ اس کو مختلف کیمی کلز ملاکر لیبارٹری میں تیار کیا جاتاہے۔ اس کی تیاری میں acetoneجو ناخن پالش کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے،anhydrous ammoniaجو کھاد میں پایا جاتاہے،hydrochloic acidجو پلاسٹک بنانے میں،lithiumجو بیٹریوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے علاوہ بھی کئی ایک کیمی کلز جیسے red phosphorus,toluene,sodium hydroxideاور sulfuric acid کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔یہ برف یا شیشے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔اس کا استعمال اس طرح کیا جاتا ہے جس طرح ایک سگر یٹ کا کیا جاتا ہے۔اس کا حدف انسا ن کا مرکزی اعصابی نظام ہوتا ہے۔آئس پینے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے استعال سے چودہ تبک روشن ہوجاتے ہیں اور انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔ہر غم بھول جاتا ہے اور پرسکون ہوجاتاہے۔اس کے علاوہ پورا جسم توانائی سے بھر جاتا ہے اور چستی پیدا ہوجاتی ہے۔یہ تصویر کا وہ رخ ہے جو آئس کے عادی افراد دکھاتے ہیں ۔لیکن اگر یہ افراد اس کے نقصانات پر چند لمحوں کے لئے غور فرمائیں تو اس طالب علم کو یقین ہے کہ وہ اس کو ہاتھ بھی نہ لگائیں۔وہ علامات جو آئس کے عادی افراد میں پیدا ہوجاتے ہیں اور جن کو ہر عام و خاص باآسانی محسوس کرتاہے وہ یہ ہیں کہ یہ افراد بہت زیادہ پر امید ہوجاتے ہیں،ہر چیز ہر لمحے سے ہر کام سے ایک خود ساختہ امید بنا رکھتے ہیں،ان کے نیند میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور ان کو زیادہ نیند نہیں آتی چاہے یہ جتنی بھی کوشش کرے،اس کے بولنے کے انداز میں تیزی پیدا ہوجاتی ہے،بات میں سے بات نکالنے کی لت لگ جاتی ہے اور بہت دیر تک کھا نے سے گریزاں رہتے ہیں یعنی کھا نے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔یہ سلسلہ یہاں نہیں رکھتا ۔آہستہ آہستہ یہ افراد وہم کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایک عجیب و غریب خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ان کو ہر کوئی سازشی دکھائی دینے لگتا ہے،اور اس فکر میں مستغرق ہوکر رہ جاتے ہیں کہ ہر کوئی اس کے خلاف سازش میں مبتلا ہے اور یہ اکیلے مقابلہ کررہا ہے۔بعض اوقات یہ وہم ان کی جان لیتا ہے اور یہ خود کشی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔یہ ہر بات کو بار بار دہراتے ہیں۔ان میں فیصلہ کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی اور یہ کوئی درست فیصلہ کرنے سے قاصر ہوکر رہ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی وزن خطر ناک حد تک کم ہوجاتی ہے۔ان کا جلد بے ڈول ہوکر رہ جاتاہے اور یہ افراد خود پر اور دوسروں پر تشدد کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔اس زہر قاتل کا آغاز جرمنی میں 1887میں ہوا ۔تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سب سے پہلے جاپان کے کیمسٹ Nagia Nagayoshiنے سن 1893میں بنایا تھاجو بھی ہوں لیکن۔1915میں اس کا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں شروع ہوا ۔1919میں جاپان میں اس کے اثر کو بڑھانے پر کام ہوا ۔جرمنی نے اس دوا کا اجتماعی استعمال جنگ عظیم دوم میں کرایا اور اپنے افواج کو اس کا مزہ چکایا جس کا مقصد ان کو بیدار رکھنا تھا۔خصوصاًپائلیٹس حضرات کو اس کے ڈوز دئیے جاتے تاکہ وہ نیند کا مقابلہ کرسکیں اور ہمہ وقت بیدار اور چست رہے ۔ان کو دیکھ کر دوسرے ممالک نے بھی اپنی افواج کو آئس کے استعمال سے روشناس کرایا ۔1950میں کو diet aidکے طور پرڈیپریشن سے لڑنے کے لئے استعمال کیا گیا۔جب اس کا استعمال بڑھنے لگا تو 60 19میں اس کو پاؤڈر میں تبدیل کیا گیا جو پانی میں حل ہوجاتی اور جو ایک انجکشن کے ذریعے جسم میں باآسانی داخل کرائی جاسکتی تھی۔1970میں امریکہ نے اس کے زیادہ استعمال پر پابندی عاد کردی۔اس پابندی کے ساتھ ہی اس کا اک منظم کاروبار شروع ہوا۔امریکہ میں موجود جرائم پیشہ افراد نہ صرف اس کو فروخت کرتے بلکہ اس کو بناتے بھی تھے۔1990میں کیلوفورنیا میں اتنی زیا دہ لیبارٹریز معرض وجود میں آئی جو اک ہفتے میں با آسانی پچاس پاؤنڈز آئس پیدا کرتی تھیں۔تہذیب کے دعوی دار اقوا م نے ایسے زہر کے استعمال کو رواج دیا جس نے لاکھوں لوگوں کے گھراجاڑدئیے ۔اس نے کئی نسلیں برباد کردیں اور کر رہی ہے۔آئس اب ہر ملک میں دستیاب ہے اور ہمارے وطن عزیز میں بھی اس کا استعمال آئے روز بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو آئس کی لت لگ چکی ہے۔سکول اور کالج کا طلباء طالبات اس کا بے رریغ استعمال کررہے ہیں۔اس کا انجام بربادی کے سوا ء کچھ نہیں ہے۔پوری دنیا پر اور پاکستان میں آئس کے استعمال کو جاننے کے بعد اس طالب علم کے منہ سے بے ساختہ ’’آئس اور برباد نسلیں ‘‘ نکل گیا ۔اس لئے اسی کو اپنے کالم کا عنوان بنا ڈالا کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آئس کا استعمال نسلیں برباد کرہاہے۔

Facebook Comments