53

ملاکنڈ میں سابق قوانین کی بحالی کابل پاس نہ ہو سکا

پشاور(  آوازچترال رپورٹ)۔حکومت، خیبرپختونخوااسمبلی میں ملاکنڈ ڈویژن میں سابقہ قوانین کی بحالی کابل پاس نہ کرسکی ۔صوبائی اسمبلی اجلاس کے دوران جب صوبائی وزیر قانون سلطان محمد نے پاٹاسے متعلق بل منظوری کیلئے پیش کیا تو اپوزیشن اراکین بالخصوص ملاکنڈڈویژن کے ارکان اسمبلی نے اس پر اعتراضات اٹھائے وزیرقانون نے ایوان کوبتایاکہ ملاکنڈ ڈویژن تک صرف ماضی کے جاری کردہ قوانین کی بحالی چاہتے ہیں ۔
25 ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 247 ختم ہوچکا ہے آرٹیکل 247 کے خاتمے کے ساتھ ہی صدر کے جاری کردہ تمام ریگولیشن بھی ختم ہوگئے ہیں اسلئے ملاکنڈ ڈویژن میں نافذ سابقہ قوانین کو لیگل تحفظ دینا چاہتے ہیں اس موقع پر دیرسے منتخب پی پی کے رکن صاحبزادہ ثناء اللہ نے کہاکہ مجوزہ بل کے تحت ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس زمرے میں آجائے گا25 ویں آئینی ترمیم پاس کرتے وقت حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے عدم نفاذ کا وعدہ کیا تھااس کوایفاکیاجائے اپوزیشن لیڈر اکرم درانی اور اے این پی کے رکن سرداربابک نے بھی اس بات کی تائید کی تاہم اپوزیشن اپنی بات نہ منوانے پر ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔
جس پرسپیکرمشتاق غنی نے اجلاس کی کارروائی پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کردیا بعدازاں صوبائی وزراء اوردیگرحکومتی اراکین اپوزیشن کو منانے آئے جہاں دونوں فریقین کے درمیان بحث ومباحثہ ہوا تاہم اپوزیشن اراکین بضد تھے کہ بل پاس کرتے وقت ملاکنڈڈویژن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیاجائے اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث حکومت نے بل پاس کرنے کا فیصلہ موخر کردیا۔

Facebook Comments