69

ادارہ جاتی پریکٹس نہ کرنیوالے ڈاکٹروں کیلئے سخت قانون تیار

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ )خیبر پختونخوا حکومت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیویشنز کا درجہ رکھنے والے ہسپتالوں میں ادارہ جاتی پریکٹس نہ کرنے والے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کیلئے سخت قانون تیار کر لیا ہے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیویشنز ریفارمز (ترمیمی ) ایکٹ 2018ء کے مسودے کے مطابق ایم ٹی آئیز کے ایسے ڈاکٹراور دیگر طبی عملہ جو ادارہ جاتی پریکٹس کا آپشن قبول نہیں کریگا۔
ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا وہ بونسز سے بھی محروم ررہیں گے اور دیگر تمام مراعات کے حقدار بھی نہیں ہونگے ایسے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو انتظامی پوسٹوں کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔
ترمیمی ایکٹ میں آپشن کے لفظ کو لازمی کرنے کیلئے سٹریم لائن کیا گیا ہے اور ہسپتالوں کے مینجمنٹ بورڈز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر ادارہ جاتی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے حوالے سے وقتاً فوقتاً فیصلے کر سکیں گے واضح رہے کہ ایکٹ کے ترمیمی مسودے کی کابینہ اور بعدازاں صوبائی اسمبلی سے منظوری لی جائے گی ۔

Facebook Comments