68

حکومت کی سوروزہ کارکردگی کچھ لطیفے ،کچھ قہقہے اور کچھ مایوسیاں ہیں ۔ سراج الحق

پشاور ( آوازچترال نیوز )امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی سوروزہ کارکردگی کچھ لطیفے ،کچھ قہقہے اور کچھ مایوسیاں ہیں ۔خود وزیر اعظم لطیفے سنا کر لوگوں کو قہقہے لگانے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔قبل ازوقت الیکشن کا مطالبہ ہمیشہ اپوزیشن کی طرف سے آیا کرتا تھا مگر وزیر اعظم کی طرف سے یہ مطالبہ اس بات کی دلیل ہے کہ یا تو ان کی ٹیم ان سے تعاون نہیں کررہی یا پھر انہیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ ڈلیور نہیں کرسکیں گے ۔حکومت نے جو بڑے بڑے دعوے کئے تھے وہی اس کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں جسے وہ اگل سکتی ہے نہ نگل سکتی ہے ۔ایک کروڑ نوکریوں ،پچاس لاکھ لوگوں کو گھر دینے اور پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کا وعدہ حکمرانوں نے کیا تھا ،حکومت نے ارزانی لانے کا وعدہ کرکے اتنی مہنگائی کردی ہے کہ لنڈے کے کپڑے بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہوگئے ہیں۔قانون پر عمل درآمد کی یہ صورتحال ہے کہ اب تک سرکاری افسروں کے غیر قانونی تبادلوں پرسپریم کورٹ تین بار ازخود نوٹس لے چکی ہے ۔ جب حکومت سو رہی ہوتو اکیلے چیف جسٹس کی بھاگ دوڑ سے کیا ہوگا لیکن عوام شکرکریں کہ ان کے مسائل پر کوئی تو بات کر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے لاہور پریس کلب میں میٹ دی پر یس پروگرام میں گفتگو اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب امیر العظیم ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف اور سینئر نائب صدرمجتبیٰ باجوہ ،نائب صدر شکیل سعید اور سیکرٹری پریس کلب عبد المجید ساجد بھی موجود تھے ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کو لاہورپریس کلب کیااعزازی ممبر شپ پیش کی گئی ۔سینیٹر سراج الحق نے پریس کلب میں کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا اور جماعت اسلامی کی طرف سے کمپیوٹر لیب کیلئے 20عد د کمپیوٹرز کا تحفہ بھی دیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن پر قابو پانے کیلئے بے لاگ احتساب ضروری ہے ۔ پانامہ لیکس کے دیگر 436 ملزموں کواحتساب کے کٹہرے میں لانا سپریم کورٹ پر قوم کا قرض ہے ۔انتخابی دھاندلی پر کمیشن کا قیام ہی اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں سمجھتے انتخابات شفاف نہیں تھے ۔ حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کرکے خود ہی اس کی خلاف ورزی کی،بیرونی دنیاایسی حکومت پر کس طرح اعتماد کرے گی۔حکومت کو یہ اعتراف کرکے قوم سے معافی مانگنی چاہئے کہ اس نے جو معاہدہ کیا تھا وہ خلاف آئین تھا۔ حکومت کا ایک پہیہ دائیں اور دوسرا بائیں طرف زور لگارہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک حکومت اپنے کسی وعدے کو پورا نہیں کرسکی جس کی وجہ سے عوام کے اندر ایک مایوسی ہے اور سب سے زیادہ مایوس وہ لوگ ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کو بڑی توقعات کے ساتھ ووٹ دیا تھا ۔اب حکومت کا اپنا بیان ہے کہ سو دنوں میں اس نے ڈائریکشن لی ہے اس کا مطلب ہے کہ ایکشن کیلئے حکومت کو کم از کم ایک ہزار دن چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ گناہ ٹیکس حکومتی گناہ ہے جسے لگا کر وہ بنی اسرائیل کے راستے پر چل پڑی ہے ۔یہ تصور سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف اور معاشرے کیلئے تباہ کن ہے یہ مالداروں کو گناہ کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیکیورٹی ریاست بنانے کے بجائے اسلامی و فلاحی ریاست بنانا ضروری ہے ۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو چھت ،تعلیم ،علاج ،روز گار اور انصاف مہیا کرے ۔روزگار اور چھت
دینے کا وعدہ کرکے حکومت نے لوگوں سے چھت اور روزگار چھیننا شروع کردیا ہے ،کراچی میں اب تک چھ ہزار مکانوں اور دکانوں کو گرایا جاچکا ہے ۔ جس سے پچاس ہزارخاندان متاثر ہوئے ہیں حالانکہ ان لوگوں کے پاس 1950 میں زمین لیز پر لینے کے تمام ڈاکو منٹس موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ تجاوزات ختم ہوں جن لوگوں نے سرکاری پراپرٹی پر قبضہ کررکھا ہے ان سے یہ پراپرٹی واگزار کرئی جائے مگر کسی آئین و قانون کو خاطر میں لانا اور غریبوں کے جھونپڑوں پر چڑھ دوڑنا کہاں کا انصاف ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ وہاں کے عوام حل کریں پاکستانی حکومت کو امریکہ کے کہنے پر اس مسئلہ میں نہیں آنا چاہئے ،امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا،آج امریکہ اگر پھنس گیا ہے تو اسے پھنسا رہنے دیں ۔پاکستان نے اگر کندھا پیش کرکے اسے اس دلدل سے نکالا تو وہ دوبارہ پاکستان کو آنکھیں دکھا ئے گا۔پاکستان پہلے ہی اس جنگ کی وجہ سے 70ہزار جانوں اور ایک سو چوبیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی دوسرے ملک کا نہیں پاکستان کی شہ رگ دشمن کے پنجے سے چھڑانے کا مسئلہ ہے ۔کشمیر میں روزانہ بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ۔بھارت انسانی حقوق کو پامال کررہا ہے ،کشمیر یوں کے قتل عام میں اسرائیل بھارت کا ساتھ دے رہا ہے اور امریکہ یہود و ہنود کی سرپرستی کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر 72سال سے جاری آزادی کی تحریک جس میں کشمیر یوں کی تیسری نسل قربانیاں دے رہی ہے دب گئی توپاکستان کو بھارت پانی کا ایک قطرہ نہیں دے گا اور پھر پنجاب بنجر صحرا کا منظر پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان کی بقااور سلامتی کیلئے کشمیر کی آزادی ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

Facebook Comments